سعودی عرب اور ترکیہ کا غزہ سے اسرائیلی انخلا اور یمن اور سوڈان کی ملکی وحدت پر زور

ایردوان نے شاہ سلمان اور ولی عہد کے دورہ ترکیہ کے لیے اپنی خواہش کا اظہار کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کے دورہ ریاض اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے اختتام پر، دونوں شخصیات نے بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے تعاون جاری رکھنے اور کوششوں کو تیز کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

سعودی عرب اور ترکیہ نے غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور غزہ کی پٹی پر اسرائیلی قبضہ ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

سعودی پریس ایجنسی "SPA" کی آج بدھ کے روز جاری رپورٹ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر باہمی دل چسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا اور خطے میں جاری تنازعات، تناؤ اور ان کے پھیلاؤ کے خطرے پر تشویش کا اظہار کیا۔

دونوں ممالک نے مشترکہ تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا اور علاقائی استحکام، امن اور خوش حالی کو یقینی بنانے کے لیے علاقائی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔

مزید برآں فریقین نے غزہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں جاری امن کوششوں کی حمایت کے لیے "امن کونسل" میں دونوں ممالک کی شمولیت اور غزہ کی پٹی کے امور چلانے کے لیے آزاد قومی کمیٹی کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں کے آغاز کا خیرمقدم کیا۔

یمنی معاملے پر دونوں ممالک نے یمنی شرعی حکومت کی حمایت کا اعادہ کیا اور یمن کی خود مختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے یمن کی تقسیم کی کسی بھی کوشش اور اندرونی طور پر بد امنی اور عدم استحکام پیدا کرنے والے عناصر کی حمایت کی مخالفت پر زور دیا۔

ترک جانب نے یمن میں سعودی عرب کے اہم کردار اور بحران کے خاتمے کے لیے اس کی کوششوں کی تائید کی۔ اس میں یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ کی درخواست پر ریاض میں جنوب کے تمام طبقات کے لیے ایک جامع کانفرنس کی میزبانی بھی شامل ہے تاکہ بحران کو حل کیا جا سکے اور قومی اتفاقِ رائے کو فروغ ملے۔

سوڈان کے حوالے سے، سعودی عرب اور ترکیہ نے اپنے مشترکہ بیان میں ملک کی وحدت، سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے اپنے ثابت قدم موقف کی تصدیق کی۔ انہوں نے ریاست کے قانونی اداروں کے باہر کسی بھی غیر قانونی یا متوازی ادارے کی تشکیل کو مسترد کیا اور بیرونی اسلحے کی ترسیل روکنے پر زور دیا تاکہ سوڈان کو تنازعات کا اکھاڑہ بننے سے بچایا جا سکے۔

فریقین نے سوڈانیوں کی قیادت میں ایک سیاسی عمل کے آغاز کی اہمیت واضح کی جس کے ذریعے ایک ایسی شہری حکومت تشکیل دی جائے جس میں انتہا پسند گروہ اور سوڈانی عوام کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر شامل نہ ہوں۔

صدر ایردوان نے شاہ سلمان اور ولی عہد کو ترکیہ کے دورے کی دعوت دی، جو شہزادہ محمد بن سلمان نے قبول کر لی۔

واضح رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے منگل کو ریاض میں ترک صدر سے ملاقات کی تھی، جس میں صدر ایردوان نے توانائی، دفاعی صنعت اور دیگر شعبوں میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مزید بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار کیا۔ ایردوان نے شام میں استحکام کے لیے ترکیہ کی مسلسل حمایت پر زور دیا اور کہا کہ ان کا ملک شام کی تعمیرِ نو کے لیے ریاض کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں