گزشتہ روز منگل کی شام لیبیا کے دار الحکومت طرابلس کے جنوب مغرب میں واقع شہر الزنتان میں ملک کے سابق سربراہ معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو 4 نامعلوم مسلح افراد نے ان کے گھر میں قتل کر دیا۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی مبینہ لاش کی ایک مشکوک تصویر گردش کرنے لگی، جس میں ایک ٹرک میں لاش دکھائی گئی ہے۔ تاہم قذافی خاندان کے قریبی ذرائع نے 'العربیہ/الحدث' کو بتایا کہ گردش کرنے والی تمام تصاویر جعلی ہیں۔
تحقیقات اور پوسٹ مارٹم
لیبیا کے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے بدھ کو جاری بیان میں بتایا کہ فرانزک ماہرین اور تفتیش کاروں نے لاش کا معائنہ کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیف الاسلام کی موت گولیوں کے لگنے سے آنے والے زخموں کے باعث ہوئی۔ حکام مشتبہ افراد کی شناخت اور قانونی کارروائی کے لیے سرگرم ہیں۔
سیاسی سفر : وارث سے مفرور تک
سیف الاسلام نے جو کبھی اپنے والد کے ممکنہ جانشین سمجھے جاتے تھے، زندگی کا ایک طویل حصہ قید اور روپوشی میں گزارا۔ اگرچہ وہ کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں تھے، لیکن وہ لیبیا کی طاقت ور ترین شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔
انہوں نے لیبیا کے ایٹمی پروگرام کے خاتمے اور 'لوکربی دھماکے' کے متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی جیسے حساس سفارتی معاملات میں اہم کردار ادا کیا۔ لندن اسکول آف اکنامکس سے تعلیم یافتہ سیف الاسلام انگریزی روانی سے بولتے تھے اور ایک دور میں مغرب کے قریب سمجھے جاتے تھے۔
انقلاب اور گرفتاری
سال2011 میں جب قذافی حکومت کے خلاف تحریک چلی، تو سیف الاسلام نے مظاہرین کو "چوہے" قرار دیتے ہوئے سخت کریک ڈاؤن کی حمایت کی۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ "ہم یہیں لڑیں گے اور یہیں مریں گے"۔ طرابلس پر باغیوں کے قبضے کے بعد وہ خانہ بدوش کا بھیس بدل کر نائجر فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے کہ 'ابوبکر الصدیق بریگیڈ' نے انہیں صحرائی راستے سے گرفتار کر لیا۔
قید اور عدالتی کارروائی
انہوں نے چھے سال الزنتان میں قید کاٹی، جہاں ان کی زندگی والد کے دور کی شاہانہ عیاشیوں سے یکسر مختلف تھی۔ سال 2015 میں طرابلس کی ایک عدالت نے انہیں جنگی جرائم پر سزائے موت سنائی، جبکہ عالمی فوجداری عدالت (ICC) کو بھی قتل اور ظلم و ستم کے الزامات میں ان کی تلاش تھی۔
صدارتی امیدوار اور سیاسی جمود
سال2017 میں عام معافی کے تحت رہا ہونے کے بعد وہ کئی سال روپوش رہے، یہاں تک کہ 2021 میں صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آئے۔ ان کی نامزدگی نے لیبیا میں شدید تنازع کھڑا کر دیا، جس کی وجہ سے انتخابات کا عمل تعطل کا شکار ہوا اور ملک سیاسی جمود کا شکار ہو گیا۔
تجزیہ کار جلیل حرشاوی کے مطابق سیف الاسلام کی موت کے بعد قذافی کے حامی دھڑوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، تاہم ان کے منظر نامے سے ہٹنے سے لیبیا میں انتخابات کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔
-
لیبیا کے نجی فوجی طیارے کا حادثہ: انقرہ کے قریب گرنے والے طیارے کا بلیک باکس برآمد
ترک حکام کو بدھ کو علی الصبح ایک نجی طیارے کا وائس ریکارڈر اور بلیک باکس مل گیا جو ...
بين الاقوامى -
لیبیا کے آرمی چیف کا طیارہ برقی نظام میں خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوا : ترک حکام
طیارے نے ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور کو ہنگامی صورت حال کے بارے میں آگاہ کیا
بين الاقوامى -
لیبیا کے آرمی چیف کئی سینر عہدیداروں کے ہمراہ ترکیہ میں طیارہ حادثے میں جاں بحق
لیبی حکومت کے سربراہ محمد الدبیبہ نے حادثے کی تصدیق کردی، طیارہ انقرہ سے طرابلس ...
بين الاقوامى