قذافی خاندان کے قریبی ذرائع نے العربیہ/الحدث کو بتایا ہے کہ سیف الاسلام قذافی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے محرکات جاننے کے لیے سرکاری تحقیقات تاحال جاری ہیں، جبکہ ابھی تک ان کی لاش کو زنتان شہر سے منتقل کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ان کی میت کی حوالگی اور پوسٹ مارٹم کروانے کے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
خونریز جھڑپ اور بیٹے کی زخمی حالت
اسی تناظر میں احمید قذافی نے العربیہ/الحدث سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سیف الاسلام نے اپنی موت سے قبل حملہ آوروں کا ذاتی طور پر مقابلہ کیا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اس واقعے کے دوران سیف الاسلام کا بیٹا بھی زخمی ہوا ہے، تاہم ابھی تک ان کے زخموں کی نوعیت یا صحت کے حوالے سے کوئی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں کیونکہ حملے میں ملوث اصل گروہ کے بارے میں تاحال ابہام پایا جاتا ہے۔
عاجل من العربية:
— العربية (@AlArabiya) February 3, 2026
⭕ مصدر مقرب من عائلة القذافي للعربية: مقتل سيف الإسلام قرب مدينة الزنتان
⭕ مصادر في الفريق السياسي لسيف الإسلام القذافي: 4 مسلحين اقتحموا مقر إقامته
⭕ مصادر في الفريق السياسي لسيف الإسلام القذافي: المسلحون عطلوا كاميرات مقر إقامة سيف الإسلام
⭕ مصادر في… pic.twitter.com/QRWrHfPXId
سیف الاسلام کے کزن نے مزید بتایا کہ گذشتہ عرصے میں سیف الاسلام پر متعدد مرتبہ قاتلانہ حملوں کی کوششیں کی گئی تھیں۔
تحقیقات کا آغاز اور نامعلوم حملہ آور
العربیہ/الحدث کے ذرائع کے مطابق پبلک پراسیکیوٹر کی ایک ٹیم تحقیقات کے لیے سیف الاسلام قذافی کی رہائش گاہ پہنچ گئی ہے، جبکہ اہلخانہ کے قریبی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ابھی تک اس واقعے کے پیچھے کارفرما گروہ کے بارے میں کوئی حتمی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
مراسل #قناة_العربية فرج حمزة: قيادة اللواء 444 تنفي علاقتها بمقتل #سيف_الإسلام_القذافي.. والأجهزة الأمنية في الزنتان تؤكد عدم رصد تحركات عسكرية قرب المدينة pic.twitter.com/clwDj9L3iO
— العربية (@AlArabiya) February 3, 2026
دریں اثنا سیف الاسلام قذافی کی سیاسی ٹیم کے ایک رکن نے مطالبہ کیا ہے کہ جسد خاکی کو حوالے کیا جائے تاکہ اس کا پوسٹ مارٹم کیا جا سکے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ میت کو منتقل کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں اور ساتھ ہی واقعے سے متعلق شواہد بھی جمع کیے جا رہے ہیں۔
سیف الاسلام قذافی کی سیاسی ٹیم کے ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مسلح افراد نے سی سی ٹی وی کیمرے معطل کرنے کے بعد ان کی رہائش گاہ پر دھاوا بولا، جس کے بعد وہاں شدید جھڑپ ہوئی، تاہم حملہ آوروں کی شناخت یا ان کے مقاصد کے بارے میں مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں لائی گئی ہیں۔