انسان کی جگہ مشین، تعمیراتی لاگت کم کرنے کے لیے سنگاپور میں سمارٹ انجینئرنگ

زمین کی کمی ہمیشہ یہ سوالات اٹھاتی ہے کیا بنانا چاہیے اور کیا باقی رکھا جا سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

عالمی وبا کورونا کے بعد کے سالوں میں سنگاپور ایک کھلی تعمیراتی ورکشاپ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ 8 بلین ڈالر کی لاگت سے "لاس ویگاس سینڈز" پروجیکٹ کی ترقی سے لے کر چانگی ایئرپورٹ پر نئی عمارت تک بڑے منصوبے بیک وقت شروع ہوئے ہیں۔ کئی منصوبوں پر کام اگلے سال شروع ہونا ہے۔ اسی طرح "تینگا" جنرل اور کمیونٹی ہسپتال کی تعمیر جاری ہے جو 2030 تک 4 ہزار بستروں کا اضافہ کرے گا ۔ یہ ملک کے سب سے بڑے عوامی صحت کے منصوبوں میں سے ایک ہے۔ اس رفتار کے ساتھ سنگاپور کی بلڈنگ اینڈ کنسٹرکشن اتھارٹی نے گزشتہ جنوری میں اپنی پیش گوئیوں میں اضافہ کیا جس میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس سال تعمیرات کی مانگ 53 بلین سنگاپور ڈالر (تقریباً 42 بلین امریکی ڈالر) تک پہنچ جائے گی۔ یہ گزشتہ اندازوں سے تقریباً 15 فیصد زیادہ ہے۔

ایشیا پیسیفک میں "Cundall" انجینئرنگ کنسلٹنسی کے پارٹنر اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر الیکس سائز نے بتایا ہے کہ ’’ سی این بی سی ‘‘ نیٹ ورک کی ایک وسیع رپورٹ، جس کا جائزہ ’’ العربیہ بزنس ‘‘ نے لیا، کے مطابق وبا سے نکلنے کے بعد سے تعمیرات کے شعبے میں ترقی بڑھتی جارہی ہے۔

اخراجات میں مسلسل اضافہ

اگرچہ تعمیراتی تیزی عام طور پر صحت مند معاشی سرگرمی کی عکاسی کرتی ہے لیکن منظر نامے کا دوسرا رخ وہ اخراجات ہیں جو عالمی سطح پر بلند ترین شرحوں میں سے ایک کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔ انجینئرنگ کنسلٹنسی فرم "Turner & Townsend" نے اس سال پانچ فیصد تک اضافے کا انتباہ دیا ہے۔ اس کی وجہ سپلائی چین میں خلل ہے۔ خاص طور پر سیمنٹ اور ریڈی مکس کنکریٹ کی سپلائی چین میں خلل اہم ہے۔ بجلی اور پلمبنگ کے اجزاء کے لیے طویل انتظار اور ان میں استعمال ہونے والے سیمی کنڈکٹرز کی قیمتوں میں اضافہ مشکل کا باعث بنتا ہے۔ اس میں ہنر مند لیبر کی کمی بھی شامل ہے۔

سنگاپور میں کمپنی کے جنرل منیجر کو سی بون نے تصدیق کی ہے کہ انجینئرز اور تکنیکی ماہرین جیسی پیشہ ورانہ ملازمتیں بھی کم دکھائی دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صلاحیتوں کا فقدان خاص طور پر خصوصی معاہدوں میں اب بھی ٹائم ٹیبل اور کام کے معیار کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ’’ بی سی اے ‘‘ اس سال کے دوران پروجیکٹ مینیجرز کے لیے ایک اضافی تربیتی پروگرام شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

ڈبل ہیٹنگ

اب ’’ سی جی ایس انٹرنیشنل ‘‘ کے تجزیہ کار کارکنوں کو اضافی کام انجام دینے کی تربیت دینے کے بڑھتے ہوئے ایسے رجحان کا مشاہدہ کر رہے ہیں جسے "Double Hatting" کہا جاتا ہے۔ اس رجحان میں ایک ہی کارکن لیبر کی کمی سے نمٹنے اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے مقصد سے ایک سے زیادہ کردار ادا کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بہت سے انجینئرز اب ایسے ڈیجیٹل ٹولز کی تربیت حاصل کر رہے ہیں جو روایتی کاموں کو کم کردیتے ہیں اور انجینئرز کو فیلڈ میں عمل درآمد اور نگرانی پر توجہ مرکوز کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

سنگاپور کی کمپنی ’’ سوئل بِلڈ ‘‘ کا کہنا ہے کہ وہ زیادہ محنت طلب کاموں کو آف سائٹ پری فیبریکیشن (پہلے سے تیاری) کے ذریعے اعلیٰ معیار کی صنعتی عمارتوں کے ایک نئے انداز سے بدل رہی ہے۔ اسی دوران مہارتوں کی کمی کو دور کرنے کے لیے ٹیکنالوجی پر انحصار کا دائرہ بڑھ رہا ہے۔ کمپنی "ISOTeam" نے عمارتوں کے سامنے کے حصوں کے معائنے کے لیے ڈرونز اور مصنوعی ذہانت کے نظام کا سہارا لیا ہے۔ کمپنی فی الحال ایسے ڈرونز تیار کرنے پر کام کر رہی ہے جو سہارے (scaffolding) کی ضرورت کے بغیر سامنے کے حصوں کو دھو سکتے ہیں اور پینٹ کر سکتے ہیں۔ ان ڈرونز سے خطرات کم ہوں گے اور پیداواری صلاحیت بڑھے گی۔

اگرچہ ان ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری مہنگی ہے لیکن "CGS" کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کا اثر آخر کار منافع میں اضافے کی صورت میں نکلے گا۔ اگلے اپریل سے حکومت چھوٹی کمپنیوں کو روبوٹکس اور آٹومیشن میں سرمایہ کاری کے لیے نئی مالی امداد دے گی۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جس کے بارے میں BCA کا کہنا ہے کہ اس سے لیبر میں 50 فیصد تک بچت ہو سکتی ہے۔ سنگاپور میں کئی کمپنیاں اب پروجیکٹ کی پیشرفت کو ٹریک کرنے کے لیے "OpenSpace" کمپنی کی کمپیوٹر ویژن ٹیکنالوجیز اور شیڈولنگ اور نقائص کی نگرانی کے لیے "PlanRadar" سافٹ ویئر استعمال کر رہی ہیں۔ اس طرح ان ٹولز کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری طرف "Turner & Townsend" کے مسٹر کو کا خیال ہے کہ یہ محض ڈیجیٹل ٹولز کے حصول سے بڑھ کر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کو اس بارے میں دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہوگی کہ وہ اپنے کاروباری مقاصد کی تکمیل کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیسے کریں۔ کچھ کمپنیاں درحقیقت ایک ایسی مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں جو ایک ڈیجیٹل نشاۃ ثانیہ کے مترادف ہے۔ یہ نشاۃ ثانیہ ان کے کام کے ماڈلز کو مکمل طور پر نئی شکل دے رہی ہے۔

انسان سے 7 گنا تیزی سے پینٹ

اپنی طرف سے ’’ لیجنڈ روبوٹ ‘‘ کمپنی آٹومیشن کے عروج کی ایک زندہ مثال پیش کرتی ہے کیونکہ اس کی مشینیں اندرونی دیواروں کو پینٹ کرنے، فرشوں کو ٹریٹ کرنے اور ٹائلیں لگانے کی صلاحیت رکھتی ہیں جو انسانی کارکن سے سات گنا زیادہ موثر ہیں۔ روبوٹ روزانہ تقریباً 1500 مربع میٹر کام مکمل کرتا ہے جبکہ انسانی کارکن صرف 200 میٹر کا کام مکمل کرتا ہے۔ مارکیٹنگ مینیجر جیسن لیانگ کے مطابق ایک روبوٹ کی قیمت 70 سے 120 ہزار ڈالر کے درمیان ہے۔ وہ سنگاپور، چین، مشرق وسطیٰ اور یورپ میں مانگ میں اضافے کی تصدیق کرتے ہیں۔

عروج ابھی آنا باقی ہے

"CGS International" کے اندازوں کے مطابق انڈسٹری ابھی سرگرمی کے عروج پر نہیں پہنچی ہے کیونکہ ادارے نے منافع کے عروج کی اپنی پیش گوئی کو 2027-2028 کے بجائے 2028-2029 تک بڑھا دیا ہے۔ اس میں 2026 سے 2028 تک کمپنیوں کے منافع میں 16 فیصد سے 41 فیصد کے درمیان اضافے کی توقع ہے۔ سنگاپور ترقی کی ایک مکمل دہائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جس میں نئے پارکس، رہائشی علاقے اور اضافی میٹرو لائنیں شامل ہیں۔ زمین کی قلت کے ساتھ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ کیا بنایا جائے؟ اور کیا باقی رکھا جائے؟۔

تاہم تعمیراتی اخراجات میں اضافہ براہ راست زندگی کے اخراجات پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ ’’ Cistri ‘‘ کے جوناتھن ڈینس جیکب نے نشاندہی کی ہے کہ نجی رہائشی یونٹس کی قیمتیں بہت زیادہ ہو گئی ہیں۔ سنگاپور کو گزشتہ سال امیر ترین افراد کے لیے مہنگا ترین شہر قرار دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود یہ دیکھا گیا ہے کہ منصوبے اکثر وقت پر اور بجٹ کے اندر فراہم کیے جاتے ہیں کیونکہ وہ سیاسی محرکات کے بجائے اصل ضروریات کے مطابق چلائے جاتے ہیں جو انہیں ایک منفرد نظم و ضبط فراہم کرتا ہے۔

ایک شہر زیر تعمیر

آرکیٹیکچر فرم ’’ Morrow ‘‘کے ڈائریکٹر وین کام کے نقطہ نظر سے سنگاپور تعمیراتی مرحلے سے گزر کر شہر کو تراشنے اور اسے سرسبز بنانے کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ "Safdie Architects" کی چارو کوکاٹی کا خیال ہے کہ حکام ہر منصوبے کے ساتھ احتیاط سے کام لیتے ہیں تاکہ اس کا ارد گرد کے محلوں کے ساتھ ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے اور پائیداری کے اصولوں جیسے بارش کے پانی کو جمع کرنا شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرام دہ رہائشی ماحول فراہم کرنے کی یہ کوششیں بے مثال ہیں، کہیں اور اس طرح کا ماڈل تلاش کرنا مشکل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں