سیف الاسلام ایک بڑا انتخابی حلقہ رکھتے تھے: خاندانی ذرائع

لیبیا میں اقوامِ متحدہ کے سپورٹ مشن کا سیف الاسلام قذافی کے قتل پر گہری تشویش کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

قذافی خاندان کے ایک ذریعے نے "العربیہ/الحدث" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیف الاسلام کی نمازِ جنازہ جمعہ کو ہوگی ۔ انہیں بنی ولید میں ان کے بھائی خمیس کے پہلو میں دفن کیا جائے گا۔

قاتل کا ٹرائل

سیف الاسلام کے خصوصی نمائندے نے مزید کہا کہ قذافی کے پاس بڑی عوامی اور انتخابی بنیاد موجود تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قذافی کا قاتل لیبیا میں استحکام نہیں چاہتا۔ انہوں نے ایک ایسے منصفانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جو قاتل کو بے نقاب کرے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب لیبیا میں اقوامِ متحدہ کے سپورٹ مشن نے زنتان کے قریب حمادہ کے علاقے میں 3 فروری کو سیف الاسلام قذافی کے قتل پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ مشن نے ٹارگٹ کلنگ اور تشدد کے تمام اسی طرح کے اقدامات کی شدید مذمت کی جو قانون کی بالادستی کو کمزور کرتے۔ انسانی زندگی کی حرمت کی خلاف ورزی کرتے اور لیبیا میں امن و استحکام کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سپورٹ مشن نے یہ بھی کہا یہ واقعہ ملک بھر میں اس طرح کے تمام قتل کے واقعات سے نمٹنے کی فوری ضرورت پر روشنی ڈالتا ہے۔ مشن نے لیبیا کے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جرم کی فوری اور شفاف تحقیقات کرائیں تاکہ ذمہ داروں کی شناخت ہو سکے اور مجرموں کو کٹہرے میں لایا جائے اور تشدد کے اس سلسلے کو روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔

مشن نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے کسی بھی رویے سے گریز کریں جس سے تناؤ بڑھے یا ملک بھر میں سلامتی اور استحکام خطرے میں پڑ جائے ۔ مشن نے لیبیا کے لیے طویل مدتی استحکام اور ترقی کے حصول کے طور پر سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا۔

سیف الاسلام اکیلے تھے

واضح رہے منگل کی شام طرابلس کے جنوب مغرب میں واقع شہر زنتان میں لیبیا کے سابق رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو ان کے گھر میں چار نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے قتل کیے جانے کے بعد خاندان کے قریبی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حملے کے وقت سیف الاسلام ریسٹ ہاؤس میں اکیلے تھے۔

ذریعے نے آج "العربیہ/ الحدث " کو مزید بتایا کہ قذاذفہ قبیلے کے ایک وفد نے جسدِ خاکی وصول کر لیا ہے اور سیف الاسام کی تدفین سرت شہر میں ہوگی۔ دوسری طرف سیف الاسلام کے سیاسی دفتر نے "العربیہ/الحدث " کو بتایا کہ وہ حملے کے وقت اپنے گھر کے باغ میں افطار کی تیاری کر رہے تھے۔

دفتر نے وضاحت کی کہ انہیں بیرون ملک سے واپسی کے بعد ان کے گھر میں قتل کیا گیا، مسلح افراد باغ کی دیوار پھاند کر اندر داخل ہوئے اور ان پر گولیاں چلائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں