سیف الاسلام قذافی کی میت ابھی تک حوالے نہیں کی گئی : قانونی ٹیم کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

لیبیا میں سیف الاسلام قذافی کی قانونی اور میڈیا کمیٹی کے سربراہ عقیلہ دلہوم نے انکشاف کیا ہے کہ سیف الاسلام کا نقطہ نظر پر امن تھا۔ انھوں نے سابق سربراہ معمر قذافی کے بیٹے کے قتل کو ایک ہول ناک جرم قرار دیا۔

دلہوم نے اس بات پر زور دیا کہ سیف الاسلام انتخابی عمل میں ایک مضبوط حریف تھے اور بڑی مقبولیت کے حامل تھے۔ ان کے مطابق یہی وجہ تھی کہ سیف کو راستے سے ہٹا دیا گیا۔ عقیلہ دلہوم نے "العربیہ/الحدث" سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ سیف الاسلام کی میت ابھی تک حوالے نہیں کی گئی اور وہ اب بھی زنتان شہر میں ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ میت پراسیکیوٹر جنرل کی تحویل میں ہے۔

سیف الاسلام قذافی کی ٹیم نے اس معاملے سے مکمل غیر جانب داری کے ساتھ نمٹنے اور بغیر کسی اثر و رسوخ کے حقائق سامنے لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے سیف الاسلام کے قتل کے حالات کی آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔

لیبیا کے پراسیکیوٹر جنرل نے بدھ کے روز سابق لیبیائی رہنما معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کے منگل کو ہونے والے قتل کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ صدارتی کونسل کے سربراہ محمد المنفی نے تمام فریقوں سے ضبطِ نفس کی اپیل کی ہے۔

پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر نے بتایا کہ فرانزک ڈاکٹروں اور ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم منگل کو مغربی لیبیا کے شہر زنتان روانہ ہوئی، جہاں انہوں نے اس شخص کی میت کا معائنہ کیا جسے طویل عرصے تک ملک کی حکمرانی میں اپنے والد کا ممکنہ جانشین سمجھا جاتا رہا۔ پراسیکیوٹر جنرل نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ موت گولی لگنے سے ہوئی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مشتبہ افراد کی شناخت اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ منگل کی شام دار الحکومت طرابلس کے جنوب مغرب میں واقع شہر زنتان میں چار نا معلوم مسلح افراد نے مقتول لیبیائی کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو ان کے گھر میں قتل کر دیا تھا۔

سیف الاسلام جو اپنے بدنامِ زمانہ والد معمر قذافی کے ممکنہ وارث تھے، ایک ایسے شخص میں بدل گئے تھے جس نے تقریباً دس سال ایک دور افتادہ پہاڑی قصبے میں نظر بندی اور روپوشی میں گزارے۔ اس کے بعد انہوں نے صدارتی انتخابات کے لیے اپنی نامزدگی کا اعلان کیا تھا۔ اس قدم نے انتخابات کرانے کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں