خواتین کی یمنی سیاست میں واپسی، نئے وزیرِ اعظم الزندانی کی کابینہ میں شمولیت

ایک عشرے کے بعد خواتین سیاست میں وارد ہوئی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے جمعہ کے روز ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں وزیر اعظم شائع محسن الزندانی کی قیادت میں نئی حکومت کے قیام کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔ الزندانی وزیرِ خارجہ اور وزیر برائے امورِ غیر ملکیان بھی ہوں گے۔

اس حکم نامے میں نئی کابینہ کے ارکان کا تعین کیا گیا ہے جس میں ایک عشرے سے زائد عرصے میں پہلی بار خواتین شامل ہوئی ہیں۔

الزندانی کو وزیرِ اعظم مقرر کیے جانے اور نئی حکومت کی تشکیل کا کام سونپنے کے تین ہفتے بعد یہ پیش رفت ہوئی ہے۔ یمن کی سرکاری سباء نیوز ایجنسی نے اطلاع دی کہ ان کی تجاویز صدارتی قیادت کونسل میں پیش کی گئیں اور آئینی اور عبوری فریم ورک کے مطابق منظور ہوئیں جس میں خلیج تعاون کونسل اقدام کے طریقہ کار شامل ہیں۔

نئی حکومت 35 وزراء پر مشتمل ہے جن میں دفاع، داخلہ، خارجہ امور، خزانہ، تیل، تعلیم، صحت، توانائی، پانی اور نقل و حمل کے علاوہ کئی وزرائے مملکت شامل ہیں۔

یہ 2015 کے بعد پہلی بار کسی یمنی کابینہ میں خواتین کی واپسی کی بھی علامت ہے۔ افراح الزوبۃ کو منصوبہ بندی و بین الاقوامی تعاون، جج اشراق المقطری کو قانونی امور کا وزیر اور احد الجوثوث کو وزیرِ مملکت برائے امورِ نسواں مقرر کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں