صدر ٹرمپ کی طرف سے اوباما کے خلاف 'نسل پرستانہ' پوسٹ سخت تنقید کے بعد واپس لے لی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے سوشل میڈیا پر سابق امریکی صدر اوباما کی شیئر کی گئی اس ویڈیو کو ڈیلیٹ کردیا گیا ہے جس میں سابق سیاہ فام امریکی صدر کو بندر کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ ویڈیو میں ان کی اہلیہ کا بھی اسی انداز سے مذاق اڑایا گیا تھا۔

صدرٹرمپ کی اس پوسٹ پر سخت تنقید سامنے آئی اور اسے نسل پرستانہ قرار دیا گیا۔ امریکہ میں نسل پرستی کا مسئلہ دیرینہ ہے۔ جہاں سیاہ فام سفید فام امریکیوں کے مبینہ جبر کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ تاہم منصب صدارت کسی شخصیت کا اس طرح کی قابل اعتراض پوسٹ لگانا اپنی نوعیت کا امریکہ میں پہلا واقعہ ہے کہ ایک صدر بھی اپنی پوسٹ کے ذریعے نسل پرستی کو ہوا دینے کا الزام اپنے سر لے رہا ہے۔

یاد رہے امریکہ میں سفید فام حکمرانوں نے وائٹ ہاوس کو وائٹ ہاؤس کا نام اسی لیے دیا تھا لیکن اس کے باوجود اسے امریکہ اور امریکہ سے باہر اب نسل پرستی کی علامت نہیں امریکی طاقت کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

ٹرمپ کی اس تنقید کا نشانہ بننے والی ویڈیو پوسٹ کے بارے میں وضاحت میں پہلے یہ کہا گیا وائٹ ہاوس کے ایک اہلکار نے غلطی سے یہ پوسٹ بنا دی تھی۔ اب اس پوسٹ کو اتار دیا گیا ہے۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹی کیرولین لیوٹ نے پوسٹ پر آنے والے غم و غصے کو 'فیک' قرار دیا تھا۔ اس ویڈیو پر بہت منفی تبصرے آئے حتیٰ کہ کچھ ری پبلکن قانون سازوں نے بھی اس پر تنقید کی۔

منگل کی رات دیر گئے ایک منٹ پر محیط ویڈیو شیئر کرنے والے صدر ٹرمپ آج کل عوامی سرویز میں امریکہ کے عوام میں اپنی مقبولیت کھو رہے تھے۔ ایسے موقع پر یہ شور مچنے سے کم از کم ان کے کٹر حامی سرگرمی سے ان کی حمایت میں متحرک ہو جائیں گے۔ البتہ تنقید کا بھی سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ تاہم لگتا ہے صدر ٹرمپ وسط مدتی انتخاب سے پہلے اپنے حامیوں کو متحرک کرنا چاہتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی طرف سے اس دعوے کو دہرانے کے ساتھ ایسی مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ پوسٹ میں اوباما توہین آمیز انداز میں دکھایا گیا ہے۔ اس پر دوسروں کے علاوہ ری پبلک قانون سازوں نے بھی تنقید کی ہے۔ ایک سیاہ فام ریپبلکن سینیٹر ٹم سکاٹ نے ٹرمپ کا حامی ہونے کے باوجود تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا میں دعا کرتا ہوں یہ ویڈیو فیک ہو کیونکہ وائٹ ہاوس سے یہ سب سے زیادہ نسل پرستانہ چیز سامنے آئی ہے۔

ٹم سکاٹ نے یہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس ' پر لکھا ہے۔ اس بارے میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پوسٹ کو صدرکو ہٹا دینا چاہیے۔

دوسرے بہت ساروں کی طرح نیو یارک سے تعلق رکھنے والے ری پبلکن رکن کانگریس مائیک لالر نے بھی ٹرمپ کی پوسٹ پر تنقید کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس پر صدر ٹرمپ معافی مانگیں۔

وائٹ ہاوس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے پوسٹ ہٹائے جانے سے قبل یہ بھی کہا تھا کہ یہ انٹرنیٹ پر پڑی ویڈیو ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ ٹرمپ جنگل کے بادشاہ ہیں اور لائن کنگ کی کہانی کی طرح ڈیموکریٹس بھی اس کہانی کے کردار ہیں۔ اس ویڈیو میں ایک گانے کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ دوسری جانب اوباما کے ترجمان نے اس بارے میں کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔

اوباما کے ایک سابق معاون بین روڈس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر کہا ہے کہ ٹرمپ اور ان کے حامیوں کو مستقبل میں پریشان ہونے کا موقع ہوگا جب ٹرمپ کو تاریخ پر ایک داغ کے طور پر دیکھا جائے گا اور اوباما کو پسندیدہ و محبوب شخصیت کے طور پر دیکھا جائے گا۔

صدر ٹرمپ دوسروں کی توہین کرنے اور ان کا مضحکہ اڑانے میں پہلے بھی کئی مثالیں قائم کرچکے ہیں۔ اس وجہ سے امریکہ کے اندر اور باہر ہر جگہ انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے صومالیوں کو گندگی کا ڈھیر قرار دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں