مصری شہریوں کے لیے عمرہ پروازوں کی بندش کی حقیقت کیا ہے: وزارت سیاحت و آثار قدیمہ کی وضاحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

مصری وزارت سیاحت و آثار قدیمہ نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں ان حالیہ شکایات اور خبروں کی حقیقت واضح کی گئی ہے جو مصری عمرہ کمپنیوں کی جانب سے سامنے آئی تھیں۔ ان خبروں میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی پلیٹ فارم ’نسک‘ کے ذریعے مصریوں کے لیے عمرہ پروازیں روک دی گئی ہیں۔

وزارت سیاحت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ زیر گردش خبروں کا تعلق دراصل سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ کے اس فیصلے سے ہے جس کے تحت ’نسک ‘پلیٹ فارم پر بعض کمپنیوں کے ساتھ الیکٹرانک لین دین روک دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ان کمپنیوں کی جانب سے عمرہ پروگراموں پر عمل درآمد کے لیے مقررہ ضوابط اور شرائط کی خلاف ورزی کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔

سعودی اور مصری پلیٹ فارمز کے ضوابط کی پابندی لازمی

اس تناظر میں مصری وزارت سیاحت و آثار قدیمہ میں شعبہ سیاحتی کمپنیز کی معاون اور حج و عمرہ کی اعلیٰ کمیٹی کی چیئرپرسن سامیہ سامی نے گذشتہ روز بتایا کہ وزیر شریف فتحی کی جانب سے سنہ 1447ھ کے عمرہ سیزن کے لیے منظور شدہ ضوابط میں اس بات پر سخت زور دیا گیا ہے کہ مصری اور سعودی سرکاری پلیٹ فارمز پر درج عمرہ پروگراموں کے ڈیٹا کی مکمل پابندی کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہی وہ بنیادی ستون ہے جس سے پروازوں کی باقاعدگی اور معتمرین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

مصری عہدیدار نے اپنے بیانات میں اس بات پر زور دیا کہ اس سلسلے میں کیے گئے تنظیمی اقدامات کا براہ راست تعلق اس بات سے ہے کہ کمپنیاں رجسٹرڈ ڈیٹا اور زمین پر ہونے والی اصل کارروائی میں کس حد تک مطابقت برقرار رکھتی ہیں۔

بعض کمپنیوں کی جانب سے ضوابط کی خلاف ورزی

سامیہ سامی نے اشارہ کیا کہ سفری راستوں پر موجود وزارت سیاحت کی کمیٹیوں نے، جو مصری معتمرین کی روانگی کی نگرانی کرتی ہیں، یہ بات نوٹ کی ہے کہ بعض کمپنیاں مصری عمرہ پورٹل پر درج شدہ منظور شدہ سفری اوقات کی پابندی نہیں کر رہیں۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور عمرہ سیزن کی نظم و ضبط کے ساتھ روانگی یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر قانونی چارہ جوئی کی گئی ہے۔

معاون وزیر نے مزید وضاحت کی کہ گذشتہ 11 دسمبر کو تمام سیاحتی کمپنیوں کو ایک سرکاری مراسلہ جاری کیا گیا تھا جس میں مصری پورٹل پر درج عمرہ پروگراموں کے تمام ڈیٹا کی پابندی پر زور دیا گیا تھا۔ اس میں واضح کیا گیا تھا کہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی صورت میں کمپنی کو مقررہ ضوابط کے تحت قانونی جوابدہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سعودی وزارت حج و عمرہ کے اقدامات

اسی طرح سعودی وزارت حج و عمرہ نے بھی نسک پلیٹ فارم کے ذریعے متعدد مراسلے جاری کیے ہیں جن میں پلیٹ فارم پر درج ڈیٹا اور مملکت کے اندر معتمرین کی اصل نقل و حرکت، خاص طور پر رہائش اور قیام کی مدت کے حوالے سے مکمل مطابقت کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ مراسلے اس وقت جاری کیے گئے جب یہ دیکھا گیا کہ بعض کمپنیاں آمد و روانگی کی تواریخ اور درج شدہ رہائشی مقامات کی پابندی نہیں کر رہیں۔ سعودی جانب سے صورتحال درست کرنے کے لیے مہلت دیے جانے کے باوجود بعض کمپنیوں کی جانب سے کارروائی مکمل نہ کرنے پر ان کے ساتھ الیکٹرانک لین دین اس وقت تک کے لیے معطل کر دیا گیا ہے جب تک وہ اپنے معاملات درست نہیں کر لیتیں۔

عمرہ پروازوں کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں

سامیہ سامی نے اس بات پر سختی سے زور دیا کہ وزارت سیاحت نے لائسنس یافتہ کمپنیوں کے لیے عمرہ کی کسی پرواز پر پابندی عائد نہیں کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمرہ کے ضوابط، جو مصری فیڈریشن آف ٹورازم چیمبرز اور ٹریول اینڈ ٹورازم کمپنیز چیمبر کے تعاون سے تیار کیے گئے ہیں، کمپنیوں کو بغیر کسی حد کے کتنی ہی پروازیں چلانے کی اجازت دیتے ہیں۔ البتہ اس کے لیے یہ شرط لازمی ہے کہ مملکت میں موجود پروازوں میں سے ایک کی واپسی یقینی بنائی جائے تاکہ سیزن کو منظم رکھا جا سکے اور رش سے بچا جا سکے۔

وزارت نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ سیاحتی پروگرام متاثر نہ ہوں، ٹریول اینڈ ٹورازم کمپنیز چیمبر کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی ہے۔ اس کے تحت معطل شدہ کمپنیوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنی معطلی کے دورانیے میں دیگر کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کر کے اپنے پہلے سے طے شدہ پروگرام مکمل کر سکیں، تاکہ معتمرین کے حقوق محفوظ رہیں اور ان کا سفر متاثر نہ ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں