ٹیلیگرام کے بانی پاویل دوروف بدھ کے روز ارب پتی ایلون مسک کے ہم آواز ہو گئے، جب دونوں نے اسپین کے وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز کی اس تجویز پر سخت تنقید کی، جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے،ایک ایسا اقدام جس نے آزادیِ اظہار اور ریاستی نگرانی سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اسپین کے وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے منگل کے روز دبئی میں اعلان کیا تھا کہ وہ ہسپانوی بچوں کو سوشل میڈیا پر تشدد اور فحش مواد جیسے مضر مواد سے محفوظ رکھنے کے لیے متعدد اقدامات متعارف کرا رہے ہیں۔اس پابندی کے ساتھ ساتھ سانچیز نے ہسپانوی قانون میں ترمیم کا بھی اعلان کیا، جس کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور نیٹ ورکس کے سربراہان کو اس صورت میں فوجداری طور پر جوابدہ ٹھہرایا جا سکے گا، اگر وہ غیر قانونی یا اشتعال انگیز مواد ہٹانے میں ناکام رہے۔
ٹیلیگرام کے بانی پاویل دوروف نے بدھ کے روز اپنے ایک پیغام میں صارفین کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’نئے اور خطرناک قوانین آپ کی آن لائن آزادیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں‘‘۔ یہ پیغام انہوں نے اپنے ہی پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر جاری کیا، جس کے صارفین کی تعداد ایک ارب کے قریب ہے اور جو اپنی پرائیویسی خصوصیات کے لیے جانا جاتا ہے۔
دوروف نے مزید کہا کہ ’’یہ اقدامات +تحفظ+ کے نام پر اسپین کو ایک نگرانی کی ریاست میں تبدیل کر سکتے ہیں‘‘، اور خبردار کیا کہ ان پر عمل درآمد سے بڑے پیمانے پر ڈیٹا اکٹھا کرنے اور سنسرشپ کو فروغ ملے گا۔
اس پر وزیرِاعظم سانچیز نے فوری ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر مشہور ہسپانوی ناول ڈان کیخوتے کے مصنف میگوئل دی سروانتس کے ایک قول سے متاثر ہو کر جواب دیا، جس میں تنقید کو درست راستے پر ہونے کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
سانچیز نے اپنے مخصوص انداز میں لکھا:اے سانچو! ٹیکنالوجی کی اولیگارکی کو بھونکنے دو، یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
دوسری جانب ہسپانوی حکومتی ذرائع نے الزام عائد کیا کہ پاویل دوروف نے ٹیلیگرام پر اپنی ’’مکمل اجارہ داری‘‘ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسپین میں تمام صارفین کو ’’جھوٹ پر مبنی‘‘ پیغامات بھیجے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ صورتحال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ سوشل میڈیا اور فوری پیغام رسانی کی ایپس کو منظم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
ایلون مسک نے بھی منگل کے روز اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر سانچیز کے خلاف متعدد پوسٹس کے ذریعے ردعمل دیا، جن میں انہوں نے ہسپانوی وزیرِاعظم کو اپنے الفاظ میں "گندا"، "آمر اور ہسپانوی عوام کا غدار" اور حقیقی فاشسٹ آمر قرار دیا۔
اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک اس سے قبل بھی پیڈرو سانچیز کے ساتھ ایک کھلے عام تنازع میں الجھ چکے ہیں، جس کی وجہ سانچیز کی حکومت کی جانب سے لاکھوں غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ بنا تھا۔
اسپین کی جانب سے 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب آسٹریلیا دسمبر میں اس پالیسی پر عمل درآمد شروع کر چکا ہے۔یورپی یونین میں فرانس، یونان اور ڈنمارک بھی اسی نوعیت کے اقدامات کے لیے مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔