مشرقی زیمبیا میں ایک شکاری ہاتھیوں کے جھنڈ سے بچ کر بھاگتے ہوئے مگرمچھ کے ہاتھوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
52 سالہ دین نيرندا گذشتہ بدھ کے روز اپنے دو دوستوں کے ساتھ شکار سے واپس آ رہا تھا کہ اچانک ان کا سامنا جنگلی ہاتھیوں سے ہو گیا۔
ہاتھیوں سے جان بچانے کے لیے تینوں دوست محفوظ مقام کی تلاش میں بھاگے اور اس دوران نيرندا نے ہاتھیوں کے قہر سے بچنے کی آخری کوشش کے طور پر دریائے لوانگوا کے قریب ایک برساتی نالے میں چھلانگ لگا دی۔
مقامی پولیس چیف روبرٹسن مویمبا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ جیسے ہی اس شخص نے چھلانگ لگائی، اسی لمحے ایک مگرمچھ نے اس پر حملہ کر دیا اور اس کی دائیں ران چبا ڈالی۔ پولیس کے مطابق نيرندا نے ہمت دکھاتے ہوئے مگرمچھ کو لاٹھی سے مار کر پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا اور خود کو پانی سے باہر نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔
دور سے صورتحال پر نظر رکھنے والے دو دیگر شکاری اس کی مدد کے لیے تیزی سے پہنچے اور اسے دریا کے کنارے سے اٹھایا، اس وقت اس کا خون کثرت سے بہہ رہا تھا۔ مویمبا نے مزید بتایا کہ انہوں نے خون روکنے کی کوشش کی لیکن بدقسمتی سے وہ جانبر نہ ہو سکا۔
زیمبیا میں ہاتھیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور گذشتہ برسوں کے دوران انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
تحفظِ ماحولیات کے ماہرین کے مطابق دریائے لوانگوا جو زیمبیا کے جنوبی لوانگوا نیشنل پارک سے گزرتا ہے افریقہ میں نیل کے مگرمچھوں کی سب سے بڑی آماجگاہوں میں سے ایک ہے۔
ریسورس افریقہ نامی تنظیم کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سنہ 2023ء میں جنگلی حیات سے وابستہ ہلاکتوں کے 26 واقعات درج کیے گئے جن میں سے 15 ہلاکتیں مگرمچھوں کے حملوں کی وجہ سے ہوئیں اور ان میں سے زیادہ تر دریائے لوانگوا کے گرد و نواح میں پیش آئیں۔
زیمبیا کے حکام نے بارہا مقامی آبادی اور سیاحوں پر زور دیا ہے کہ وہ ان علاقوں میں سفر کے دوران انتہائی احتیاط برتیں جہاں جنگلی جانوروں کی کثرت ہے۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں یاد دلایا گیا ہے جب سنہ 2021ء میں زیمبیا میں ہی ایک 18 سالہ برطانوی طالبہ میڈلین اميلی اوزبورن اسمتھ پر 3 میٹر طویل مگرمچھ نے حملہ کر دیا تھا۔ وہ وکٹوریہ فالز کے قریب دریائے زامبیزی میں کشتی رانی کر رہی تھیں کہ گائیڈز کی جانب سے دریا کے محفوظ ہونے کی یقین دہانی کے باوجود مگرمچھ نے ان کی ٹانگ پکڑ کر انہیں پانی کے نیچے کھینچ لیا تھا۔