اسرائیلی صدر کے دورے کے خلاف ریلی میں جھڑپیں، آسٹریلوی وزیرِ اعظم 'صدمے' سے دوچار
مہمان صدر کی آمد پر لوگوں کا غم و غصے کا اظہار
آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم نے منگل کو کہا کہ اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ کے دورے کے خلاف سڈنی کی ریلی میں جو جھڑپیں ہوئیں، وہ ان کے مناظر دیکھ کر "صدمے" سے دوچار تھے لیکن انہوں نے مظاہرین کے خلاف پولیس کی کارروائیوں کا دفاع کیا۔
سختی سکیورٹی میں ہرتصوغ کے چار روزہ دورے کا مقصد آسٹریلیا کی یہودی برادری کے غم میں شریک ہونا ہے جو دسمبر میں سڈنی کے بونڈائی بیچ پر ہونے والی اجتماعی فائرنگ کا شکار ہوئی۔ اس واقعے میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
لیکن پیر کی شام آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر کے وسط میں افراتفری پھیل گئی جب پولیس نے ایک ریلی کو اس علاقے میں جانے سے روکنے کی کوشش کی جہاں عوام کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظاہرین اور میڈیا بشمول اے ایف پی کے ارکان پر سیاہ مرچ کا سپرے کیا جس میں سڈنی کے مرکزی کاروباری ضلع میں پرتشدد جھڑپیں دیکھنے میں آئیں جو ایک شاذ و نادر واقعہ ہے۔
وزیر اعظم انتھونی البانیز نے کہا، "یہ واقعی ایسے مناظر ہیں جو میرے خیال میں نہیں ہونے چاہئیں۔"
انہوں نے مزید کہا، "لوگوں کو پرامن طریقے سے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی اجازت ہونی چاہیے لیکن پولیس کو بالکل واضح طور پر ان راستوں کا علم تھا جہاں لوگ مارچ کرنا چاہتے تھے"۔
نیو ساؤتھ ویلز کے سربراہ کرس منز نے کہا کہ پولیس کے لیے "ناقابلِ یقین حد تک مشکل حالات" پیدا کر دیے گئے۔
انہوں نے مشاہدہ کیا کہ ہرتصوغ 14 دسمبر کو فائرنگ کے متأثرین کے لیے ایک تقریب میں ہزاروں سوگواران کے ساتھ شریک تھے جو مظاہروں سے دور نہیں تھا۔
منز نے کہا کہ اگر مظاہرین کو اس تقریب کے قریب مارچ کرنے کی اجازت دی جاتی تو یہ "تباہ کن" ہوتا۔
نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے کہا ہے کہ انہوں نے ریلیوں میں 27 افراد کو گرفتار کیا جن میں سے 10 پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملہ کرنے کا الزام تھا اور اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ہجوم کے خلاف سیاہ مرچ کا سپرے استعمال کیا۔
لیکن سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ایک ویڈیو پر غم و غصہ پیدا ہوا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ سڈنی کے ٹاؤن ہال کے قریب نماز ادا کرنے والے مسلمان آدمیوں کو پولیس اہکاروں نے دھکے دیے۔
مقامی گرینز کی قانون ساز ابیگیل بوائیڈ نے مقامی نشریاتی ادارے اے بی سی کو بتایا کہ وہ مارچ میں پولیس کے ہاتھوں زخمی ہو گئی تھیں اور گلے میں کالر پہن کر سوشل میڈیا پر سیلفی پوسٹ کی۔ انہیں گردن پر چوٹ آئی تھی۔
"میں نہیں جانتی تھی کہ ہماری ریاست میں پولیس ایسا کر سکتی ہے۔ مجھے شدید صدمہ محسوس ہوتا ہے،" انہوں نے کہا۔
احتجاجی گروپوں نے حامیوں سے سڈنی کے مرکز میں شام 5:30 بجے "پولیس کی بربریت" کے خلاف ریلی نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
'حوصلہ اور تسلی'
توقع ہے کہ ہرتصوغ کا دورہ جمعرات تک جاری رہے گا۔
منگل کی صبح انہوں نے سڈنی کے مضافات میں واقع یہودی سکول میں طلباء سے ملاقات کی۔
توقع ہے کہ بعد میں وہ بونڈائی حملے کے متأثرین کے اہل خانہ سے ملاقات کریں گے۔ سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے بعد سے یہ یہودیوں کے خلاف مہلک ترین حملہ تھا۔
بہت سے یہودی آسٹریلیوی باشندوں نے ہرتصوغ کے سفر کا خیر مقدم کیا ہے۔
لیکن کمیونٹی کے بعض لوگ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے جن میں آسٹریلیا کی ترقی پسند یہودی کونسل نے کہا کہ "غزہ میں جاری تباہی" میں ان کے مبینہ کردار کی وجہ سے ان کا خیرمقدم نہیں کہا گیا۔