تصویری کارٹون ٹرینڈ پر محتاط رہیں… یہ آپ کے بایومیٹرک ڈیٹا کے لیے خطرہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک نیا رجحان تیزی سے مقبول ہوا ہے، جو مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کرتے ہوئے تصاویر کو مزاحیہ کارٹون میں بدل دیتا ہے۔ یہ رجحان صرف چہرے کے تاثرات کی نقل نہیں کرتا بلکہ صارف کے پیشے اور کام کی نوعیت کا بھی اندازہ لگا کر اسے ایک ہنسی خیز منظر میں بصری طور پر شامل کر دیتا ہے۔لیکن ممکنہ خطرات کیا ہیں اور یہ تصاویر کیسے تیار کی جاتی ہیں؟ اور مصنوعی ذہانت کا کردار کیا ہے؟

ڈاکٹر محمد محسن رمضان صدر مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی یونٹ مرکز العرب برائے تحقیقات و مطالعہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ یہ رجحان اگرچہ مقبول اور بہت زیادہ استعمال ہو رہا ہے، لیکن اس میں تکنیکی اور سکیورٹی کے حقیقی خطرات پوشیدہ ہیں۔یہ ایپس جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز پر منحصر ہیں، جن میں کمپیوٹر ویژن ماڈلز شامل ہیں جو چہرے کے تاثرات، عمر، چہرے کے تاثرات اور لباس کا تجزیہ کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ گہری تعلیم (Deep Learning) کے ماڈلز استعمال کرتے ہیں تاکہ تصویر کو پہلے سے موجود ڈیٹا سے جوڑا جا سکے، اور کثیر الوسائط (Multimodal) ماڈلز تصویر، متن اور صارف کے رویے کو یکجا کر کے ایک مکمل مزاحیہ تصویر تیار کرتے ہیں۔

میکانیکی تجزیہ (Algorithmic Analysis)

ڈاکٹر رمضان نے وضاحت کی کہ تصویر اپلوڈ کرنے کا عمل صرف اسے کارٹون میں بدلنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ تصویر کو خوارزمی (Algorithmic) تجزیہ کے ذریعے اس کی خصوصیات نکالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جو صارف کی پیشہ ورانہ پہچان (جیسے ڈاکٹر، انجینئر، صحافی، پروگرامر)، طرزِ زندگی، کام کا ماحول اور بعض اوقات بالواسطہ سماجی طبقے کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔

جہاں تک پیشے کی پیش گوئی کا تعلق ہے، ڈاکٹر رمضان بتاتے ہیں کہ AI انسانی طور پر پیشہ نہیں جانتا بلکہ شماریاتی اندازے کی بنیاد پر چہرے کے تاثرات، لباس، تصویر کا پس منظر اور میٹا ڈیٹا کی مدد سے پیشہ کا اندازہ لگاتا ہے۔ بعض اوقات یہ تصویر صارف کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بھی منسلک کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ پیش گوئی اگرچہ دلچسپ لگ سکتی ہے، ایک خودکار درجہ بندی (Automated Classification) ہے ،جو غلط یا متعصب بھی ہو سکتی ہے اور یہ صارف کی واضح رضامندی کے بغیر تجزیہ کرتی ہے۔

اسی حوالے سے مصر کے سابق وزیر داخلہ کے شعبہ تعلقات و میڈیا کے سینئر معاون لیفٹیننٹ جنرل ابوبکر عبد الکریم نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اورالحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ صارف کی پرائیویسی شدید خطرے میں ہے۔ خطرہ اس بات میں ہے کہ تصاویر اپلوڈ کرنے کے بعد فوراً حذف نہیں ہوتیں، بلکہ عارضی طور پر محفوظ رہتی ہیں، ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں یا مبہم استعمال کی پالیسیوں کے تحت تیسرے فریق کے ساتھ شیئر کی جا سکتی ہیں۔

شناخت کی چوری

ڈاکٹر رمضان نے وضاحت کی کہ بایومیٹرک ڈیٹا جو حساس معلومات ہیں، ڈیپ فیک اور شناخت کی چوری کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں اور ایک مستقل ڈیجیٹل فنگر پرنٹ بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

اگر تصویر کو سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ڈیجیٹل شناخت سے منسلک کیا جائے تو یہ چہرے کو نام اور آن لائن رویے کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔جب تصویر ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کی جاتی ہے، تو یہ ایک وسیع ڈیٹا بیس کا حصہ بن جاتی ہے جو چہرے کی شناخت کو بہتر بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور یہ اکاؤنٹ یا ایپ حذف کرنے کے بعد بھی ماڈل میں محفوظ رہ سکتی ہے۔ صارف کے پاس یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں ہوتا کہ اس کی تصویر کا انجام کیا ہوگا۔

ڈاکٹر رمضان نے ایک خطرناک منظرنامہ بھی بیان کیا: اگر یہ ڈیٹا لیک ہو جائے تو اصلی تصاویر جو مخصوص چہرے کے تاثرات سے جڑی ہوں، فریب، بلیک میلنگ یا جعل سازی میں دوبارہ استعمال کی جا سکتی ہیں اور یہ ڈیٹا ناقابل واپسی بن جاتا ہے۔انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ہر ڈیجیٹل ڈیٹا بیس ہیک ہونے کے خطرے میں رہتی ہے۔

مصر کے سکیورٹی اہلکار نے سائبر آگاہی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ مصنوعی ذہانت میں نہیں بلکہ اس کے غیر ذمہ دارانہ استعمال میں ہے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ:پرائیویسی پالیسی کو غور سے پڑھیں۔ہائی ریزولوشن تصاویر سے پرہیز کریں۔ایپ کو مرکزی اکاؤنٹس سے منسلک نہ کریں۔اس بات پر غور کریں کہ عارضی تفریح کے لیے کیا قیمت ادا کرنا مناسب ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں