ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیضان نے کہا ہے امریکہ و ایران کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام پر ہونے والے مذاکرات پر فریقین لچک دکھا رہے ہیں۔
وزیر خارجہ نے اس امر کا اظہار فنانشیل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا ہے۔
ترک اعلیٰ سفارتی عہدیدار نے کہا یہ خوش آئند ہے کہ امریکہ ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام کو بعض حدود کے اندر برداشت کرنے کو تیار ہے۔
خیال رہے ترک وزیر خارجہ دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے رابطوں اور مذاکرات کا حصہ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا اب اس بات کو ایرانی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ امریکیوں کے ساتھ ایک سمجھوتے پر پہنچنا ضروری ہے۔ دوسری جانب امریکی بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ایرانی ایک خاص حد سے آگے نہیں جا سکتے۔ اس لیے انہیں اندھا دھند دباؤ میں لانے کی کوشش سے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔
امریکہ کا اب تک یہ مطالبہ رہا ہے کہ ایران یورینیم افزودگی کی 60 فیصد کی سطح کو کم کرے۔ کیونکہ موجودہ افزودگی کی سطح 90 فیصد کے اس ہدف کے قریب ہے جو ایرانی جوہری بم کے لیے ضروری ہے۔
ایران کے صدر مسعود پیزشکیان بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران کے خلاف عائد کردہ پابندیاں ختم کی جائیں اور ایران کی یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کیا جائے۔
خاقان فیضان نے فنانشل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا انہیں یقین ہے کہ ایران حقیقی معنوں میں سمجھوتے پر پہنچنا چاہتا ہے اور وہ یورینیم افزودگی کے حوالے سے کچھ پابندیوں کو بھی قبول کر سکتا ہے۔ جیسا کہ اس نے 2015 کے معاہدے میں بھی قبول کر لیا تھا۔
یاد رہے اسی ماہ کے دوران امریکہ و ایران نے اومانی دارالحکومت مسقط میں مذاکرات کا از سر نو آغاز کیا ہے۔
تاہم صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات کے ساتھ ساتھ ایران پر فوجی دباؤ بڑھانے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ ابھی ایک روز قبل جہاں انہوں نے اس امر کا کھلا اظہار کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے کے موقف پر قائم ہیں وہیں دو روز قبل انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ایک اور بحری بیڑہ بھیجنے کا بھی عندیہ دیا تھا۔