بیرونی قوتیں اب بھی تنازع کو ہوا دے رہی ہیں : سوڈانی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی جانب سے کردفان میں امدادی قافلوں اور مراکز پر حالیہ حملوں پر اظہارِ تشویش کے بعد، سوڈانی وزیر خارجہ محی الدین سالم نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے مالی معاونت کاروں پر دباؤ ڈالے۔

آج جمعرات کو ادیس ابابا میں افریقی یونین کی امن و سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، محی الدین سالم نے کہا کہ حالات پورے ملک پر فوج کے دوبارہ کنٹرول کی طرف بڑھ رہے ہیں اور جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے، تاہم بیرونی قوتیں اب بھی اس تنازع کو ہوا دے رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ افریقی یونین نے ملک میں ہونے والی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے کوئی وفد نہیں بھیجا۔

دوسری جانب، افریقی کمیشن کے سربراہ محمود علی یوسف نے سوڈان میں جامع سیاسی حل کو ترجیح قرار دیا، جبکہ مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی نے سوڈان میں سکیورٹی اور انسانی چیلنجوں کی سنگینی پر زور دیا۔ انہوں نے بحران کے خاتمے اور امداد کی ترسیل کے لیے فوری جنگ بندی اور افریقی یونین کی چھتری تلے سوڈانی گروہوں کے مابین براہِ راست مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے پر زور دیا۔

جنوبی کردفان، سوڈان میں کدوگلی سے بے گھر خاندان - رائٹرز، 30 جنوری، 2026
جنوبی کردفان، سوڈان میں کدوگلی سے بے گھر خاندان - رائٹرز، 30 جنوری، 2026

کردفان میں بڑھتی ہوئی بد امنی کے دوران گذشتہ روز ڈرون حملے میں دو بچے جاں بحق اور 12 زخمی ہو گئے، جبکہ عالمی غذائی پروگرام کا ایک گودام بھی حملے کی زد میں آیا۔ اس سے قبل گذشتہ جمعہ کو شمالی کردفان میں عالمی غذائی پروگرام کے قافلے پر حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا تھا، جس کا الزام ریپڈ سپورٹ فورسز پر لگایا گیا ہے۔

کردفان کا علاقہ اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث جنگ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ یہ دارفر کو دارالحکومت خرطوم اور مشرقی صوبوں سے جوڑتا ہے۔ سوڈانی فوج نے حال ہی میں جنوبی کردفان کے شہروں کادقلی اور الدلنج کا طویل محاصرہ ختم کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ شمالی کردفان میں سپلائی لائنوں پر قبضے کے لیے شدید لڑائی جاری ہے۔ فروری 2025 میں فوج نے الرہد شہر کا کنٹرول سنبھال کر ابیض شہر کا محاصرہ توڑا تھا، لیکن ریپڈ سپورٹ فورسز دوبارہ اس علاقے کو گھیرے میں لینے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس وقت سوڈان کی تقریباً آدھی آبادی، یعنی 2 کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد، خوراک کی شدید قلت کا شکار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں