بنگلہ دیش انتخابات میں بی این پی اتحاد کو واضح برتری، 212 نشستوں پر کامیاب
صدر مملکت اور وزیر اعظم پاکستان کے کامیاب امیداروں کو مبارک باد کے نام نہیتی پیغامات
بنگلہ دیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق طارق رحمان کی قیادت میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اس کی اتحادی جماعتوں نے واضح برتری حاصل کر لی ہے۔
اب تک موصولہ نتائج کے مطابق بی این پی اتحاد نے 299 میں سے 209 نشستیں جیت لی ہیں، جبکہ بی این پی اکیلے 151 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے۔ طارق رحمان ڈھاکا اور بوگرہ دونوں نشستوں پر کامیاب قرار پائے۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق جماعت اسلامی بنگلہ دیش اور اس کے اتحادیوں نے 70 نشستیں حاصل کیں۔ جین زی کی نیشنل سیٹیزن پارٹی، جو جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد میں شامل ہے، پانچ نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔
بنگلہ دیش میں جمعرات کو منعقد ہونے والے تاریخی عام انتخابات کے بعد مرحوم خالدہ ضیاء کے بیٹے طارق رحمان کی جماعت بی این پی نے قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے آئندہ حکومت تشکیل دینے کا اعلان کر دیا ہے۔
بی این پی کی قیادت، وزیر اعظم کے عہدے کے سر فہرست امیدوار طارق رحمان کر رہے ہیں، جو سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا اور سابق صدر ضیا الرحمان کے 60 سالہ بیٹے ہیں۔
ادھر بی این پی کی اہم حریف، جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان نے شکست تسلیم کر لی ہے۔ شفیق الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی محض مخالفت برائے مخالفت کی ’اپوزیشن کی سیاست‘ میں شامل نہیں ہو گی۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم مثبت سیاست کریں گے۔‘
جمعرات ہونے والا پارلیمانی الیکشن بنگلہ دیش میں 2024 کی ’جنریشن زی‘ کی قیادت میں ہونے والی اس پرتشدد تحریک کے بعد پہلا ووٹ تھا۔ عوامی تحریک نے طویل عرصے سے وزیراعظم رہنے والی شیخ حسینہ کا تختہ الٹ دیا تھا۔
ساڑھے 17 کروڑ آبادی والے اس مسلم اکثریتی ملک میں کئی مہینوں کے شیخ حسینہ مخالف خونریز ہنگاموں کے بعد استحکام کے لیے ایک واضح انتخابی نتیجہ اہم سمجھا جا رہا تھا۔ ان ہنگاموں نے روزمرہ کی زندگی کو درہم برہم کیا اور بڑی صنعتوں کو متاثر کیا جن میں دنیا کے دوسرے بڑے برآمد کنندہ بنگلہ دیش کا گارمنٹس سیکٹر بھی شامل ہے۔
یہ خطے میں 30 سال سے کم عمر افراد کی قیادت میں حالیہ تحریکوں کے بعد پہلا قومی الیکشن بھی تھا۔
بنگلہ دیش میں 300 براہِ راست منتخب نشستوں میں سے 151 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے والی جماعت حکومت بنائے گی۔ ایک نشست پر الیکشن ملتوی ہوئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق ملک کے 64 اضلاع میں قائم 42 ہزار 761 پولنگ اسٹیشنز پر 300 میں سے 299 پارلیمانی حلقوں کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ خواتین کی نمائندگی کے لیے 50 مخصوص نشستیں مختص ہیں، جو تناسبی نمائندگی کی بنیاد پر تقسیم کی جاتی ہیں۔
جمعرات کو ہونے والی پولنگ کا ٹرن آؤٹ 2024 کے گذشتہ الیکشن میں ریکارڈ کیے گئے 42 فیصد سے تجاوز کرتا دکھائی دیا۔ مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے 60 فیصد سے زیادہ کے ووٹ ڈالنے کی توقع تھی۔دو ہزار سے زیادہ امیدوارجن میں بہت سے آزاد امیدوار بھی شامل تھے پولنگ کے وقت موجود رہے جب کہ کم از کم 50 پارٹیوں نے نشستوں کے لیے الیکشن لڑا، جو ایک قومی ریکارڈ ہے۔ ایک حلقے میں امیدوار کی وفات کے بعد ووٹنگ ملتوی کر دی گئی۔
دوسری جانب عام انتخابات کے ساتھ قومی ریفرنڈم بھی کرایا گیا۔ ڈھاکا سے موصولہ نتائج کے مطابق 73 فیصد ووٹرز نے آئینی اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ ریفرنڈم میں عوام کو ہاں یا نہیں کا انتخاب کرنا تھا اور اس کے ذریعے ملک کے مستقبل کے سیاسی و آئینی ڈھانچے کے تعین کے لیے تجاویز طلب کی گئی ہیں، جن میں جولائی نیشنل چارٹر کے تحت وسیع آئینی اصلاحات شامل ہیں۔
ریفرنڈم کے نتیجے پر کوئی سرکاری بیان نہیں آیا۔ سرکردہ مقامی اخبار پرتھوم آلو نے رپورٹ کیا کہ ’ہاں‘ یا مثبت ووٹ گنتی میں آگے تھا۔
کامیاب امیدواروں کے نام پاکستانی قیادت کے تہنیتی پیغامات
صدر پاکستان آصف علی زرداری نے بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں بی این پی کی بڑی کامیابی پر پارٹی کے رہنما طارق رحمان کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے انتخابات کے کامیابی اور پرامن ماحول میں انعقاد پر بنگلہ دیشی عوام کو بھی مبارکباد دی۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے جمہوری شراکت داری اور مستقبل میں مشترکہ ترقی کے لیے اپنی مضبوط حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی پر بنگلہ دیش نیشلسٹ پارٹی کے رہنما طارق رحمان کو مبارکباد دی ہے۔
جمعے کو وزیر اعظم آفس کی طرف سے جاری بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ بنگلہ دیش کے عوام کو بھی انتخابات کے کامیاب انعقاد پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا: ’میں بنگلہ دیش کی نئی قیادت کے ساتھ قریبی تعاون کا خواہاں ہوں تاکہ اپنے تاریخی، برادرانہ اور ہمہ جہتی دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور جنوبی ایشیا اور اس سے باہر امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔‘