فلسطینی طبی عملے کا غزہ سے تعلق رکھنے والا رکن اسرائیلی جیل میں دم توڑ گیا
زخمی بیٹا بھی زیرِ حراست ہے، نقب حراستی مرکز میں رکھا گیا تھا
فلسطینی طبی عملے کے غزہ سے تعلق رکھنے والے ایک رکن حاتم ریان صحرائے نقب میں اسرائیل کے بدنامِ زمانہ حراستی مرکز میں انتقال کر گئے ہیں، یہ بات فلسطینی اتھارٹی کی جنرل اتھارٹی آف سول افیئرز نے جمعرات کو بتائی۔
کمیشن برائے امورِ اسیران و سابق اسیران اور فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی کے مطابق انہیں 27 دسمبر 2024 کو گرفتاری کے بعد سے وہاں رکھا گیا تھا۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی وافا نے اطلاع دی کہ انہیں ان کے زخمی بیٹے معاذ کے ہمراہ کمال عدوان ہسپتال سے گرفتار کیا گیا۔ بیٹا زیرِ حراست ہے۔
ریان ان 100 سے زیادہ قیدیوں اور نظربند افراد میں سے ایک ہیں جو اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی جیلوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے صرف 88 کی باضابطہ شناخت ہو سکی ہے جن میں سے 52 کا تعلق غزہ سے تھا۔ قیدیوں کے حقوق کے گروپوں نے مزید کہا کہ 1967 سے اب تک اسرائیلی حراست میں ہلاک شدہ فلسطینی قیدیوں کی کل تعداد 325 ہے۔
ریان کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب اسرائیلی افواج نے شمالی غزہ کے سب سے بڑے طبی مرکز کمال عدوان ہسپتال پر حملہ کیا تھا۔ انہوں نے مریضوں اور عملے کا زبردستی انخلاء کیا اور اس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کو گرفتار کر لیا تھا۔ وہ بغیر کسی الزام کے بدستور نظربند ہیں۔