امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ طور پر سعودی عرب کی فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ یہ کانفرنس میامی میں متوقع ہے۔
سعودی عرب کی طرف سے یہ دوسری مسلسل فیوچر انویسٹمنٹ کانفرنس امریکہ میں منعقد کی جا رہی ہے۔ جس کا انعقاد صدر ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد دوسری بار ہو رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے توقع ہے کہ صدر اس میں شرکت کریں گے اور پہلے روز ہونے والے عشائیے کا حصہ بھی بنیں گے۔ اس عشائیے کا اہتمام سعودی عرب کے انویسٹمنٹ فنڈ کے گورنر یاسر الرومیان کی طرف سے کیا گیا ہے۔
اس کانفرنس کا انعقاد امکانی طور پر 26 سے 29 مارچ تک ہو رہا ہے۔ تاہم اس بارے میں سعودی حکومت یا وائٹ ہاؤس نے کسی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو کے اس سعودی پلیٹ فارم میں صدر ٹرمپ کی دلچسپی اس امر کا اظہار ہے کہ صدر ٹرمپ خلیجی ممالک میں معاشی شراکت داری کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔
سعودی عرب اور امریکہ مشترکہ سرمایہ کاری کے کئی پروگراموں میں شریک ہیں۔ ان میں دفاعی معاہدات بھی شامل ہیں۔ معاشی اشتراک کے ان منصوبوں میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی نومبر میں امریکہ آمد کے موقع پر بھی اضافہ ہوا ہے۔
سودی عرب نے امریکہ میں ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کر رکھا ہے۔ جبکہ 600 بلین ڈالر کا معاہدہ صدر ٹرمپ کے ہچھلے سال ماہ مئی میں ہونے والے سعودی دورے کے دوران کیا گیا تھا۔
سعودی ویژن 2030 اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری
توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ میامی میں ہونے والی اس فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو کانفرنس میں دونوں طرف کے بڑے سرمایہ کار ادارے اور شخصیات شرکت کریں گے۔ ان میں ایسے منصوبے بھی شامل ہوں گے جو سعودی معاشی کوششوں کو متنوع بناتے ہیں۔
سعودی عرب اس سلسلے میں نجی شعبے کو تیزی سے شریک کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس سلسلے میں میامی میں ہونے والی کانفرنس انتہائی اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔ جس میں امریکی سرمایہ کار اور بزنس لیڈرز بھی شریک ہوں گے۔
سعودی عرب کا یہ 'فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو' 'مائیکن انسٹیٹیوٹ گلوبل کانفرنس' کے پائے کا ادارہ ہے جس نے لاس اینجلس میں ماہ مئی میں انعقاد کیا تھا۔ عام طور پر اس کا انعقاد سعودی عرب میں ہوتا ہے۔