ایرانی نوبل انعام یافتہ کو شمالی ایران کی جیل منتقل کر دیا گیا: خاندان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی حکام نے بغیر کسی پیشگی انتباہ کے نوبل امن انعام یافتہ نرگس محمدی کو ملک کے شمال میں واقع ایک جیل میں منتقل کر دیا ہے اور ان کی صحت پر تشویش بڑھ رہی ہے، یہ بات ان کے اہلِ خانہ نے ہفتے کے روز بتائی۔

محمدی جنہیں 2023 میں دو عشروں سے زیادہ انسانی حقوق کی مہم چلانے کے اعتراف میں امن انعام سے نوازا گیا تھا، کو 12 دسمبر کو مشرقی شہر مشہد میں ایک جنازے کی تقریب میں ایرانی علما کے خلاف بولنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

انہوں نے اس ماہ کے شروع میں بھوک ہڑتال کر دی تھی اور جیل واپس آنے سے پہلے انہیں ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔

ناروے کی نوبل کمیٹی نے اس ہفتے محمدی کی گرفتاری اور دورانِ حراست ان سے "جسمانی زیادتی اور جاری مہلک بدسلوکی" کی تفصیلات پر "شدید پریشان" کا اظہار کیا۔

پیرس میں مقیم ان کے شوہر تقی رحمانی نے بتایا کہ گرفتاری کے بعد محمدی کو مشہد میں وزارت برائے انٹیلی جنس کے حراستی مرکز میں رکھا گیا تھا لیکن اب انہیں ملک کے شمال میں زنجان شہر کی جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے ایکس پر کہا، "یہ کارروائی خاندان یا ان کے وکیل کو بتائے بغیر کی گئی تھی۔ اس کا مقصد نرگس کو جلاوطن اور بے گھر کرنا تھا۔"

انہیں منگل کو منتقل کر دیا گیا تھا لیکن وہ ہفتے کے روز اپنے ایرانی وکیل مصطفی نیلی کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے ہی یہ خبر ظاہر کر سکیں، محمدی کی فاؤنڈیشن نے کہا جو ان کے حامی اور افرادِ خانہ چلاتے ہیں۔

دسمبر میں گرفتاری کے بعد سے انہیں ایران کے اندر موجود اپنے بھائی سے صرف ایک بار اور اب اپنے ایرانی وکیل سے صرف دو بار فون پر بات کرنے کی اجازت ملی ہے۔

نیلی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، "ہماری مختصر گفتگو میں انہوں نے گرفتاری کے دوران ہونے والے تشدد، تفتیش کے دباؤ اور خاص طور پر اپنے سر پر شدید ضربات کے بارے میں بات کی۔"

"ان کے نتیجے میں انہیں غنودگی اور چکر آنے، نظر میں دوہرے پن (ایک چیز کی جگہ دو دو نظر آنا) اور دھندلے پن کے مسائل ہو گئے ہیں۔ ان کے جسم پر زخموں اور شدید جسمانی حملوں کے نشانات باقی ہیں،" انہوں نے مزید کہا۔

محمدی کو دسمبر کے آخر میں ملک گیر احتجاج شروع ہونے سے پہلے گرفتار کیا گیا تھا۔

اس ماہ کے شروع میں انہیں قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزام میں مزید چھے سال قید اور ایران کے اسلامی نظام کے خلاف پروپیگنڈا کرنے پر ڈیڑھ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ انہوں نے اپنی حراست کے حالات کے خلاف تقریباً ایک ہفتے تک بھوک ہڑتال بھی کی۔

گذشتہ 25 سالوں کے دوران 53 سالہ محمدی پر ایران میں سزائے موت کے استعمال اور خواتین کے لیے لازمی ضابطۂ لباس کے خلاف مہم چلانے پر بار بار مقدمہ کیا گیا اور جیل بھیج دیا گیا۔

محمدی زنجان میں پیدا ہوئیں لیکن وہ تہران میں مقیم رہیں۔ ان کی فاؤنڈیشن نے کہا کہ جیل کی گذشتہ سزاؤں کے دوران دو مواقع پر انہیں زنجان جیل منتقل کیا گیا جہاں ان سے بدسلوکی کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں