بونڈائی بیچ کا حملہ آور نوید اکرم پیر کو ویڈیو لنک کے ذریعے آسٹریلوی عدالت میں پہلی اعلانیہ سماعت کے لیے پیش ہوا۔
اکرم اور اس کے والد ساجد نے مبینہ طور پر دسمبر میں سڈنی میں حنوکہ کی ایک یہودی تقریب پر حملہ کیا جو تقریباً تین دہائیوں میں ملک میں اجتماعی فائرنگ کا بدترین واقعہ تھا۔ حملے کے دوران پولیس نے ساجد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
اکرم پر دہشت گردی، 15 افراد کے قتل، قتل کے ارادے سے ایک شخص کو زخمی کرنے اور دھماکہ خیز مواد نصب کرنے کے درجنوں الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
عدالت اور مقامی میڈیا کے ایک بیان کے مطابق وہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے تقریباً پانچ منٹ تک سڈنی کی عدالت میں پیش ہوا۔
عدالت نے کہا کہ شواہد کی ٹائم لائن پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
مقامی میڈیا نے بتایا کہ اکرم نے سماعت کے دوران سبز رنگ کی جرسی پہنی ہوئی تھی جس کی زیادہ تر وجہ تکنیکی معاملات تھے۔
جب جج نے پوچھا کہ کیا اس نے عدالتی کارروائی کو راز رکھنے کے احکامات کی توسیع کے بارے میں گفتگو سنی تو مبینہ طور پر اس نے صرف ایک لفظ "ہاں" بولا۔
اکرم کی آئندہ پیشی نو مارچ کو ہو گی۔
قومی نشریاتی ادارے اے بی سی نے بتایا کہ عدالت کے باہر بات کرتے ہوئے اکرم کے وکیل بین آرچبولڈ نے کہا کہ ان کے مؤکل کو "انتہائی سخت حالات میں" رکھا گیا تھا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آیا اکرم اپنے جرم کا اعتراف کر لیں گے، یہ کہنا قبل از وقت ہے۔
دسمبر میں کیے گئے حملے کے متأثرین میں ہولوکاسٹ سے زندہ بچ جانے والا ایک 87 سالہ بزرگ، ایک جوڑا جو ایک حملہ آور کو روکنے اور اس کی بندوق چھیننے کی کوشش میں گولیاں لگنے سے ہلاک ہو گیا اور ایک 10 سالہ بچی میٹلڈا شامل تھے۔ میٹلڈا کو اس کے جنازے میں "سورج کی شعاع" سے تشبیہ دی گئی ۔
’تدبیری‘ تربیت
پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بھی اس حوالے سے مشکل سوالات کا سامنا ہے کہ کیا وہ پہلے کارروائی کر سکتے تھے۔
آسٹریلیا کی انٹیلی جنس ایجنسی نے نوید اکرم کی 2019 میں بھی نشاندہی کی تھی لیکن جب ایجنسی نے فیصلہ کیا کہ اس سے کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں تھا تو وہ ان کی نگاہوں سے رہ گیا۔
حملے کے بعد جاری کردہ پولیس دستاویزات میں کہا گیا کہ دونوں نے فائرنگ سے قبل نیو ساؤتھ ویلز کے دیہی علاقوں میں "آتشیں اسلحہ کی تربیت" حاصل کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ مشتبہ افراد نے مہینوں تک حملے کی "باریکی سے منصوبہ بندی" کی۔ ان کی تصاویر جاری کی گئیں جن میں انہیں شاٹ گن سے فائرنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ اس جوڑے نے اکتوبر میں "صیہونیوں" کے خلاف ایک ویڈیو بھی ریکارڈ کی جس میں انہوں نے اسلامک سٹیٹ جہادی گروپ کے پرچم کے سامنے بیٹھے ہوئے حملے کے محرکات بیان کیے۔
دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ حملے سے کچھ دن پہلے ریکی کرنے کے لیے انہوں نے رات کے وقت بونڈائی بیچ کا دورہ کیا۔
اور حملے سے چند ہفتے پہلے یہ جوڑا جنوبی فلپائن کے چار ہفتے کے سفر سے سڈنی واپس آیا تھا۔