عُمان: واشنگٹن اور تہران کے مذاکرات میں اچھی پیش رفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکا اور ایران کے درمیان جنیوا میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے دوسرے دور کے اختتام کے بعد عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے اعلان کیا ہے کہ بات چیت میں ''اچھی پیش رفت ''ہوئی ہے۔

البوسعیدی جن کا ملک تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، نے آج منگل کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ مذاکرات مشترکہ اہداف اور متعلقہ تکنیکی امور کے تعین کی جانب اچھی پیش رفت کے ساتھ اختتام پذیر ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا: ہماری ملاقاتوں کا ماحول تعمیری تھا۔ ہم نے مل کر سنجیدہ کوششیں کیں تاکہ ایک حتمی معاہدے کے لیے چند رہنما اصول وضع کیے جا سکیں۔

تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ابھی ہمارے سامنے بہت سا کام باقی ہے۔ دونوں فریق آئندہ اجلاس سے پہلے واضح اگلے اقدامات کے ساتھ روانہ ہوئے ہیں، جبکہ اگلی ملاقات کی تاریخ طے نہیں کی گئی۔

مثبت پیش رفت

یہ بیان اس کے بعد سامنے آیا جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، جنہوں نے مذاکرات میں اپنے ملک کے وفد کی قیادت کی، نے کہا کہ گزشتہ دور کے مقابلے میں اس دور میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔

عراقچی نے آج اس سے قبل ایرانی ٹیلی وژن سے گفتگو میں بتایا کہ ان کے وفد نے امریکا کے ساتھ بنیادی اصولوں پر مفاہمت حاصل کر لی ہے، انھوں نے مزیدکہا کہ اب ہمارے پاس واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں آگے بڑھنے کا واضح راستہ موجود ہے۔

جنیوا (رائٹرز) اقوام متحدہ میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
جنیوا (رائٹرز) اقوام متحدہ میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

راستہ شروع ہو چکا

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جلد کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے، لیکن راستہ شروع ہو چکا ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ دونوں فریق ممکنہ معاہدے کی دستاویز کے دو مسودوں پر کام کریں گے اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ کریں گے، جیسا کہ رائٹرز نے نقل کیا۔

تاہم انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ کئی معاملات ایسے ہیں، جن پر دونوں جانب سے مزید کام کی ضرورت ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند ہفتے قبل واشنگٹن کی جانب سے دھمکیوں کا تبادلہ ہوا تھا اور خطے میں امریکی فوجی سرگرمیاں بھی بڑھائی گئی تھیں۔

یہ مذاکرات اس پہلے دور کے بعد ہوئے ہیں جو 6 فروری کو مسقط میں منعقد ہوا تھا اور جسے مثبت قرار دیا گیا تھا۔امریکا بارہا یورینیم کی افزودگی روکنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے اور ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے، جبکہ اسرائیل ان معاملات کو مذاکرات میں شامل کرنے پر زور دیتا رہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے حالیہ عرصے میں بارہا کہا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات صرف جوہری پروگرام تک محدود ہیں اور رہیں گے اور میزائل پروگرام کو ''خودمختار معاملہ'' قرار دیا ہے۔ایران نے یہ بھی زور دے کر کہا ہے کہ یورینیم افزودگی کا اس کا حق قابلِ مذاکرہ نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں