زلزلے سے متعلق پیشگوئی کرنے والے ڈچ ماہر نے نایاب فلکیاتی رجحان سے خبردار کر دیا

ہوگربیٹس نے 21 فروری کے آس پاس بڑے زلزلے کے امکان کی طرف اشارہ کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

زلزلے سے متعلق پیشگوئی کرنے والے ڈچ (ہالینڈ کے) ماہر فرینک ہوگربیٹس نے بدھ کو ایک نایاب فلکیاتی رجحان کے بارے میں خبردار کیا ہے، جو زمین پر بڑے زلزلے کی صورت میں اثر انداز ہو سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنی تازہ ترین وڈیو میں ہوگربیٹس نے زمین، زحل اور نیپچون کے ایک ہی سیدھ میں آنے کے بارے میں متنبہ کیا، جو ہر 36 سال میں ایک بار وقوع ہوتا ہے۔ توقع ہے کہ یہ رواں ماہ بیس فروری یعنی کل بروز جمعہ ہو گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ منفرد طور پر چاند بھی زحل اور نیپچون کے ساتھ سیدھ میں آ رہا ہے جبکہ زہرہ، عطارد اور یورینس کے ساتھ ایک اہم قائمہ زاویہ (90 ڈگری) بنا رہا ہے، جس سے زمین پر زلزلے کی سرگرمیوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

اس متنازع ماہر نے اپنی خلائی بلیٹن کا حوالہ دیا جو انہوں نے دو دن قبل سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے زور دیا کہ 19 اور 20 فروری کے درمیان کا وقت سب سے اہم ہوگا۔ انہوں نے کہا "ہم ایک بڑا زلزلہ دیکھ سکتے ہیں، خاص طور پر قمری صورتحال کے ساتھ عطارد اور یورینس کے قائمہ زاویے کی وجہ سے۔ یہ صورتحال بالکل وسط میں واقع ہے اور 21 تاریخ کے آس پاس تقریباً 7 شدت کے زلزلے کا امکان ہے، جس میں ایک دن کی کمی بیشی ہو سکتی ہے"۔ انہوں نے اپنے فالوورز سے کہا کہ وہ اس معاملے کو معمولی نہ لیں۔

ہوگربیٹس نے مزید کہا "اس موجودہ فلکیاتی صورتحال میں، پہلے عطارد کے ساتھ : زہرہ-یورینس، پھر زہرہ کے ساتھ : عطارد-یورینس ... یہ سب سے اہم پوزیشن ہے۔ اس کے نتیجے میں ہم 21 تاریخ کو ایک بڑا زلزلہ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ صورتحال انتہائی اہمیت کی حامل ہوگی۔ جہاں تک زمین-زحل-نیپچون کے ایک سیدھ میں آنے کا تعلق ہے، تو یہ ضروری نہیں کہ بہت زیادہ اہم ہو کیونکہ یہ تقریباً ہر 36 سال بعد ہوتا ہے۔ یہ ایک منفرد فلکیاتی ترتیب ہے، لیکن زہرہ، عطارد اور یورینس کے ساتھ اس کا ملاپ اسے انتہائی اہم بنا دیتا ہے"۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس عرصے میں متوقع کسی بھی زلزلے کی شدت کا انحصار بڑی حد تک زمین کی سطح کے دباؤ پر ہے۔ انہوں نے دہرایا کہ "ہمیں اس کا علم نہیں، اس لیے چوکنا رہیں"۔ ان کا ماننا ہے کہ زمین پر 20 اور 21 فروری کو شدید زلزلے آ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ہالینڈ کے محقق ہوگربیٹس "سولر سسٹم جیومیٹری سروے" (SSGEOS) نامی ادارے کے سربراہ ہیں، جو اجرام فلکی کی ترتیب اور زمین پر زلزلے کی سرگرمیوں کے درمیان تعلق پر تحقیق کرتا ہے۔

ہوگربیٹس کا نام فروری 2023 میں ترکیہ میں آنے والے تباہ کن زلزلے سے مشہور ہوا تھا، جس میں 50 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس وقت ہوگربیٹس نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اس زلزلے کی پیشگوئی اس کے وقوع سے تین دن قبل کر دی تھی۔ تب سے وہ سوشل میڈیا پر سیاروں کی ترتیب اور ان کی حرکت کی بنیاد پر چھوٹے بڑے زلزلوں کی پیشگوئیاں کرتے رہتے ہیں۔

تمام سائنس دان ہالینڈ کے اس متنازع محقق کے نظریات کو غیر سائنسی قرار دے کر مسترد کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سیاروں کی حرکت اور زمین پر زلزلوں کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے اور اب تک یہ بات ناممکنات میں شمار ہوتی ہے۔

ارضیات اور فلکیات کے ماہرین کی مسلسل تنقید کے باوجود، یہ ماہر اپنے اس نظریے پر قائم ہیں جو سیاروں کی حرکت کا زمین اور زلزلوں سے تعلق جوڑتا ہے، جسے وہ "سیاروں کی جیومیٹری" اور زمین پر اس کے اثرات کا نام دیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں