سابق مصری مفتی اعظم نے 17 سال سے زائد عمر کے بچوں کے فون کی جاسوسی حرام قرار دی
انہوں نے باور کرایا کہ شوہر کا اپنی بیوی کی جاسوسی کرنا یا اس کے برعکس بیوی کا اپنے شوہر کی جاسوسی کرنا شرعی طور پر ایک نا پسندیدہ رویہ ہے
الازہر کی سینئر علماء کونسل کے رکن اور مصر کے سابق مفتی اعظم ڈاکٹر علی جمعہ نے مصری خاندان کے اندر نجی حدود کے بارے میں ایک وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔ جمعے کے روز انھوں نے واضح طور پر والدین کے اپنے بچوں کے فون کی جاسوسی کرنے کی حرمت کا فتویٰ دیا۔ سابق مفتی اعظم کے مطابق "اعتماد" ہی شرعی اور تربیتی اصل ہے، نہ کہ خفیہ نگرانی۔
علی جمعہ کا یہ بیان رمضان کے حوالے سے ان کے خصوصی پروگرام "نور الدین" کے دوران سامنے آئے۔ یہ ایک لڑکی کے سوال کے جواب میں تھا کہ کیا سوشل میڈیا کے خطرات سے بچانے کے لیے والدین کا بچوں کے فون کی نگرانی کرنا جائز ہے؟ علی جمعہ نے اپنے جواب میں واضح قرآنی نص "ولا تجسسوا" (اور جاسوسی نہ کرو) سے استدلال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ ممانعتِ خداوندی عام ہے اور خاندانی ماحول سمیت تمام انسانی تعلقات پر محیط ہے۔
ڈاکٹر علی جمعہ نے والدین کی نگرانی کے مرحلے کے لیے ایک وقت کا تعین کیا اور کئی نکات کی طرف اشارہ کیا، جن میں رازداری (نجی زندگی) کی حد کو توڑنا بھی شامل ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جیسے ہی بچے 17 سال کی عمر تجاوز کر جاتے ہیں، وہ شعور اور ذاتی ذمہ داری کے مرحلے میں داخل ہو جاتے ہیں، لہذا شرعی طور پر ان کی رازداری کی خلاف ورزی کرنا یا ان کے فون کی تلاشی لینا جائز نہیں ہے۔
سابق مفتی اعظم کے مطابق خوف جاسوسی کا جواز نہیں بنتا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کے لیے والدین کا قدرتی خوف "قابل فہم اور قابل قدر" ہے، لیکن یہ انھیں جاسوسی اور شک کے طریقے اپنانے کا شرعی جواز فراہم نہیں کرتا۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ صحیح تربیت "اعتماد کے پلوں" اور کھلے مکالمے کے ذریعے تعمیر ہوتی ہے، نہ کہ تلاشی کے ذریعے جو شخصیت کو تباہ کر دیتی ہے۔
بات صرف بچوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ فتویٰ میاں بیوی کے تعلقات تک پھیل گیا، جہاں علی جمعہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ شوہر کا اپنی بیوی کی جاسوسی کرنا یا اس کے برعکس بیو کا اپنے شوہر کی جاسوسی کرنا شرعی طور پر نا پسندیدہ رویہ ہے، جو "مودت اور رحمت" کے میثاق کو تباہ کرتا ہے اور گھر کے استحکام کو نقصان پہنچاتا ہے۔
علی جمعہ نے بچوں کو بھی ایک پیغام دیا، جس میں ان سے "مکمل شفافیت" اور اپنے خاندانوں کے ساتھ سچائی کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ صاف گوئی ہی وہ واحد ضمانت ہے جو بچوں کی حفاظت کرتی ہے اور والدین کو ان کی نگرانی کے بارے میں سوچنے سے بے نیاز کرتی ہے، تاکہ معاشرے کے تانے بانے میں ایک صحت مند رشتہ یقینی بنایا جا سکے۔