امریکہ صومالی لینڈ کی معدنیات، فوجی مراکز تک رسائی حاصل کر سکتا ہے: وزیر صومالی لینڈ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک وزیر نے اے ایف پی کو بتایا کہ صومالی لینڈ امریکہ کو اپنی معدنیات اور فوجی مراکز تک رسائی دینے کے لیے تیار ہے کیونکہ صومالیہ کا الگ ہونے والا خطہ بین الاقوامی شناخت کا خواہاں ہے۔

اسرائیل دنیا کا واحد ملک تھا جس نے دسمبر میں صومالی لینڈ کی آزادی کو تسلیم کیا -- جس کے لیے وہ 1991 میں صومالیہ سے اپنی خودمختاری کا اعلان کرنے کے بعد سے منتظر ہے۔

موغادیشو میں حکومت ہنوز صومالی لینڈ کو صومالیہ کا لازمی جُز سمجھتی ہے حالانکہ یہ علاقہ 1991 سے اپنے پاسپورٹ، کرنسی، فوج اور پولیس فورس کے ساتھ اپنے معاملات چلا رہا ہے۔

ایوانِ صدر کے وزیر خضر حسین عابدی نے ہفتے کے روز اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، "ہم امریکہ کو (اپنی معدنیات تک) خصوصی رسائی دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے علاوہ ہم امریکہ کو فوجی مراکز دینے کے لیے تیار ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ہم امریکہ کے ساتھ کسی چیز پر متفق ہو جائیں گے۔"

صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمٰن محمد عبداللہ نے حالیہ ہفتوں میں کہا تھا کہ اسرائیل کو اپنے معدنی وسائل تک رسائی کی اجازت دیں گے۔

اور خضر حسین عابدی نے کہا کہ وہ اسرائیل کو فوجی موجودگی کی اجازت دینے کا امکان بھی مسترد نہیں کر سکتے۔

صومالی لینڈ یمن سے خلیج عدن کے اس پار واقع ہے جہاں حوثی باغی اکثر فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اسرائیلی اثاثہ جات پر حملے کرتے رہے ہیں۔

صومالی لینڈ کے حکام نے کہا ہے کہ قدرتی وسائل میں لیتھیم، کولٹن اور دیگر مطلوب مواد شامل ہیں حالانکہ اس سلسلے میں آزاد مطالعات کا فقدان ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں