نازیوں کی آمد کے خدشات، آسٹریا میں ہٹلر کے گھر کو پولیس سٹیشن میں تبدیل کر دیا گیا
ہٹلر کے گھر کی تزئین و آرائش مارچ کے آخر میں مکمل ہو جائے گی
آسٹریا میں نازی رہنما ایڈولف ہٹلر کے گھر کو پولیس سٹیشن میں تبدیل کرنے کا کام مکمل ہونے والا ہے لیکن اس گھر کے اس نئے استعمال کے مقصد پر اب بھی تنقید کی جارہی ہے۔ نئے استعمال کا مقصد بنیادی طور پر نازی ازم کے پرستاروں کی اس گھر کی طرف آمد کو روکنا ہے۔ 53 سالہ ملازمہ سیبیل ٹربلمیئر نے کہا کہ گھر کو پولیس سٹیشن میں تبدیل کرنا ایک ایسی ترتیب ہے جس کے نتائج ملے جلے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس کو "دو دھاری تلوار" قرار دیا اور کہا کہ اس گھر کو کسی اور طریقے سے بھی استعمال کیا جا سکتا تھا۔
واضح رہے یہ عمارت سترہویں صدی کی ہے جہاں 20 اپریل 1889 کو جرمن ڈکٹیٹر ہٹلر پیدا ہوا تھا۔ یہ گھر جرمنی کی سرحد کے قریب آسٹریا کے شہر براوناو آم اِن کی ایک تجارتی شاہراہ پر واقع ہے۔ آسٹریا کے وزیر داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ 2023 میں گھر کی تزئین کے لیے شروع ہونے والا کام جلد مکمل ہو جائے گا۔ اس وقت مزدور کھڑکیوں کے بیرونی فریم لگا رہے ہیں۔ پرانے پیلے رنگ کو جدید طرز کے سامنے والے حصے کے طرز پر بدلا جارہا ہے۔
وزارت کے مطابق تین سال کی تاخیر کے بعد توقع ہے کہ کام مارچ کے آخر تک ختم ہو جائے گا اور پولیس سٹیشن رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں کام شروع کر دے گا۔ حکام کو امید ہے کہ اس طرح اس حساس باب کو بند کر دیا جائے گا۔ آسٹریا ایک ایسا ملک ہے جس پر بعض اوقات نازیوں کے مظالم اور ہولوکاسٹ کی ذمہ داری قبول نہ کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ یہاں 2024 کے قانون ساز انتخابات میں جیت کے بعد سابق نازیوں کی قائم کردہ انتہائی دائیں بازو کی جماعت پولز میں سرفہرست ہے۔
نازیوں کے لیے کشش کا مرکز
ہٹلر کا یہ گھر، جو 1912 سے ایک ہی خاندان کی ملکیت تھا، 1972 سے آسٹریا کی ریاست کو کرایے پر دیا گیا تھا جس نے اسے معذوروں کے مرکز میں تبدیل کر دیا تھا۔ یاد رے معذور طبقہ نازی دور میں جبر کا شکار رہا تھا، تاہم اس کے بعد بھی یہ گھر ہمیشہ نازی نظریات کے شیدائیوں اور ہٹلر کی شخصیت سے متاثر لوگوں کے لیے کشش کا مرکز رہا ہے۔ گھر کی آخری مالکہ گیرلنڈے بومر نے عمارت کی تبدیلی پر اعتراض کیا اور ریاست کی جانب سے اس کے قبضے کو ہر ممکن قانونی طریقے سے چیلنج کیا۔ اس معاملے میں 2016 میں ایک خصوصی قانون جاری کرنے کی ضرورت پڑی۔
تین سال بعد سپریم کورٹ نے 8 لاکھ 10 ہزار یورو کی رقم کے عوض عمارت کی خریداری کی توثیق کر دی جبکہ مالکہ نے 15 لاکھ کا مطالبہ کیا تھا اور ریاست نے صرف 3 لاکھ 10 ہزار کی پیشکش کی تھی۔ یہ گھر 800 مربع میٹر پر محیط ہے اور دو منزلہ ہے۔ گھر کے مستقبل کے بارے میں کئی امکانات پیش کیے گئے تھے لیکن اسے یادگار بنانے کے آپشن کو خارج کرنا پڑا کیونکہ ماہرین کی ایک کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ ایسا کرنے سے گریز کیا جائے تاکہ یہ نو- نازیوں کی زیارت گاہ نہ بن جائے۔ گھر کو مسمار کرنا بھی اختیارات میں شامل نہیں تھا کیونکہ مورخین کا کہنا ہے کہ آسٹریا کو اپنے ماضی کا سامنا کرنا چاہیے۔
آخر کار ہٹلر کے گھر کو پولیس سٹیشن میں تبدیل کرنے پر اتفاق ہوا۔ پولیس سٹیشن بنانے پر مکمل اتفاقِ رائے اگرچہ نہیں تھا۔ مقصد واضح طور پر یہ اعلان کرنا تھا کہ یہ جگہ کبھی بھی نازی ازم کی تعظیم کی جگہ نہیں بنے گی۔ کنسنٹریشن کیمپوں سے بچ جانے والوں کی انجمن کے رکن اور مصنف لڈوگ لاہر نے کہا ہے کہ گھر کو پولیس سٹیشن میں تبدیل کرنا اب بھی مشکوک ہے، کیونکہ کسی بھی سیاسی نظام میں پولیس وہی کرنے کی پابند ہوتی ہے جو اسے کہا جاتا ہے۔ مصنف لڈوگ لاہر کی رائے میں اس جگہ کا بہترین استعمال اسے امن کے فروغ کے مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔ یاد رہے نازی کیمپوں میں 65 ہزار آسٹرین یہودی مارے گئے اور مزید ایک لاکھ 30 ہزار کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا۔