ٹرمپ نے امریکی فوجی جنرل کے ایران جنگ کی مخالفت کرنے کی تردید کر دی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز "فیک نیوز میڈیا" کی ان خبروں کی تردید کی کہ اعلیٰ امریکی فوجی جنرل ایران کے ساتھ جنگ کے خلاف ہیں۔
متعدد امریکی اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے ٹرمپ انتظامیہ کو ایران پر حملے کے خلاف خبردار کیا تھا جس کی امریکی صدر نے حالیہ ہفتوں میں دھمکی دی تھی۔
فوجی سربراہ کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی ذمہ داری یہ ہے کہ "امریکہ کی سلامتی کے فیصلے کرنے والے سویلین رہنماؤں یعنی صدر، پینٹاگون کے سربراہ اور قومی سلامتی کونسل کو عسکری امکانات کے ساتھ ساتھ ثانوی تحفظات اور اس سے منسلک اثرات اور خطرات سے متعلق معلومات" فراہم کریں۔
اہلکار نے مزید کہا کہ فوج کے سربراہ "یہ اختیارات خفیہ طور پر فراہم کرتے ہیں۔"
ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر اپنی ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا، جنرل کین "ہم سب کی طرح جنگ نہیں دیکھنا چاہیں گے لیکن اگر فوجی سطح پر ایران کے خلاف جانے کا فیصلہ کیا جائے تو ان کی رائے یہ ہے کہ ہم یہ آسانی سے جیت سکیں گے۔"
ٹرمپ نے گذشتہ موسم گرما میں ایران کے جوہری پروگرام پر امریکی حملوں کا حوالہ دیا جو کین کی نگرانی میں ترتیب اور انجام دیے گئے تھے۔ امریکی صدر نے وضاحت کیے بغیر دعویٰ کیا کہ ایران سے ممکنہ جنگ کے بارے میں جو کچھ بھی لکھا گیا ہے وہ "غلط ہے اور دانستہ لکھا گیا ہے"۔
حالیہ ہفتوں میں مرکزی حیثیت کے حامل امریکی ذرائع ابلاغ نے ایران کے خلاف عنقریب اور تفصیلی ممکنہ حملوں کی اطلاع دی ہے۔ اکثر میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ "میں ہی ہوں جو فیصلہ کرتا ہوں، میں نہ کرنے کے بجائے ڈیل کرنا چاہتا ہوں لیکن اگر ہم نے کوئی ڈیل نہ کی تو بہت افسوس کی بات ہے کہ یہ اس ملک اور اس کے لوگوں کے لیے بہت برا دن ہو گا کیونکہ وہ عظیم اور شاندار ہیں اور ایسا کچھ ان کے ساتھ کبھی نہیں ہونا چاہیے،" ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر کہا۔
"رازن کین ایک عظیم سپاہی ہیں اور دنیا میں کہیں بھی طاقتور ترین فوج کی نمائندگی کرتے ہیں۔"