خشک سالی کے باعث 65 لاکھ افراد کو شدید بھوک کا سامنا ہے: صومالیہ کا انتباہ
فاقہ زدہ افراد میں ایک تہائی سے زیادہ بچے، اپریل تک غذائی امداد میں تعطل کا خدشہ
صومالیہ میں طویل خشک سالی کے باعث تقریباً 6.5 ملین افراد کو شدید بھوک کا سامنا ہے، حکومت اور اقوامِ متحدہ نے منگل کے روز کہا۔ ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کی غذائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ نئی فنڈنگ کے بغیر غذائی امداد اپریل تک رک سکتی ہے۔
صومالیہ نے برسوں تک بارشوں کی شدید کمی کے بعد نومبر میں قومی خشک سالی ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا اور خطے کے دیگر ممالک بھی اس کی زد میں آئے ہیں۔
غذائیت کی شدید قلت کے شکار افراد میں ایک تہائی سے زیادہ بچے ہیں، صومالیہ کی حکومت اور اقوامِ متحدہ صومالیہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا۔ اس بحران نے دسیوں ہزار لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ موغادیشو اور دیگر شہروں میں کیمپوں میں جمع ہو گئے ہیں۔
صومالیہ میں رابطہ کار برائے انسانی ہمدردی اقوامِ متحدہ جارج کانوے نے ایک بیان میں کہا، "خشک سالی خطرناک حد تک شدید ہو گئی ہے اور پانی کی قیمتوں میں اضافے، خوراک کی محدود فراہمی، مویشیوں کی موت اور بہت کم انسانی امداد کے مسائل درپیش ہیں۔"
حوا عبدی نے کہا کہ صومالیہ کے خلیجی علاقے میں خشک سالی نے ان کا آبائی وطن برباد کر دیا اور ان کے دو بچے بیماری کے باعث چل بسے۔
"جب میں نے دیکھا کہ مصائب مزید بڑھتے جا رہے تھے تو میں اپنے گھر سے بھاگ کر موغادیشو آ گئی،" انہوں نے دارالحکومت کے مضافات میں اپنی پناہ گاہ میں رائٹرز کو بتایا۔
گذشتہ ہفتے اقوامِ متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے شدید فاقوں کے شکار افراد کی تعداد 4.4 ملین بتائی اور کہا کہ وہ پہلے ہی امداد میں کمی کر کے 600,000 سے کچھ ہی زیادہ لوگوں کی مدد کر سکا ہے جبکہ یہ تعداد اس سال کے شروع میں 2.2 ملین تھی۔
ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ اپریل سے جون تک بارش سے کچھ راحت مل سکتی ہے لیکن تقریباً 5.5 ملین لوگوں کے بحران میں یا اس سے بھی بدتر سطح پر رہنے کی توقع ہے اور 1.6 ملین افراد ہنگامی سطح پر ہیں۔
عبدیو علی زیریں شبیلی کے علاقے میں اپنا فارم چھوڑنے پر مجبور ہو گئیں۔
"ہمارے کھیت تباہ ہو گئے، مویشی مر گئے اور پانی کے ذرائع بہت دور ہو گئے۔ ہمارے پاس اپنے ساتھ لانے کے لیے کچھ نہیں بچا،" علی نے گذشتہ ہفتے موغادیشو کے باہر بے گھر لوگوں کے کیمپ میں اپنا کھانا تیار کرتے ہوئے رائٹرز کو بتایا۔