امریکی CIA سوشل میڈیا کے ذریعے ایرانیوں کو بھرتی کرنے میں مصروف ... تہران کی برہمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی "CIA" کی جانب سے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر ایک پوسٹ نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایرانی غم و غصے کو ہوا دی ہے۔ سی آئی اے نے دو روز قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز (ایکس، انسٹاگرام، فیس بک، ٹیلی گرام اور یوٹیوب) پر اُن ایرانیوں کے لیے فارسی زبان میں نئی ہدایات جاری کی ہیں، جو خفیہ ادارے کے ساتھ محفوظ طریقے سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں۔

ایجنسی نے رابطہ کرنے کے خواہش مند ایرانیوں پر زور دیا کہ وہ ایسا کرنے سے پہلے اپنی حفاظت کے لیے "مناسب طریقہ کار" اپنائیں، اور کام کی جگہ کے کمپیوٹر یا اپنے ذاتی فون استعمال کرنے سے گریز کریں۔

پیغام میں مزید کہا گیا کہ "ممکن ہو تو ایسے نئے آلات استعمال کریں جنہیں ضائع کیا جا سکے... اپنے اردگرد موجود افراد اور ان لوگوں سے ہوشیار رہیں جو آپ کی اسکرین یا سرگرمی دیکھ سکتے ہیں۔" ایجنسی نے واضح کیا کہ رابطہ کرنے والے افراد اپنا محل وقوع، نام، ملازمت کا عنوان اور اس بات کی تفصیل فراہم کریں گے کہ "ان کے پاس ایسی کیا معلومات یا مہارتیں ہیں جو ایجنسی کے لیے دل چسپی کا باعث ہو سکتی ہیں۔"

مزید برآں پیغام میں کہا گیا کہ ان افراد کو ایسی 'وی پی این' سروس استعمال کرنی چاہیے جس کے صدر دفاتر "روس، ایران یا چین میں نہ ہوں"، یا پھر 'ٹور' (Tor) نیٹ ورک استعمال کریں جو ڈیٹا کو انکرپٹ کرتا ہے اور صارف کا آئی پی ایڈریس چھپا دیتا ہے۔

دوسری جانب، نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم ایرانی سفارت خانے نے اس پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے اب "ایرانی معاملات میں مداخلت کی کوشش کو چھپانا بھی چھوڑ دیا ہے"۔ سفارت خانے نے بدھ کے روز اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا "جب امریکی سی آئی اے فارسی میں ایک ویڈیو نشر کرتی ہے جس میں ایرانیوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ ان سے رابطہ کیسے کیا جائے، تو یہ سفارت کاری نہیں بلکہ کھلی اور واضح مداخلت ہے۔"

ایرانی سفارت خانے نے مزید سوال کیا "تصور کریں کہ اگر صورتحال اس کے برعکس ہوتی تو کتنا غصہ پایا جاتا ... یہ دوغلا پن اپنی واضح ترین شکل میں موجود ہے۔"

امریکی ایجنسی کی جانب سے ایرانیوں کو بھرتی کرنے کی یہ کوشش مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی بڑے پیمانے پر تیاریوں کے سائے میں سامنے آئی ہے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کے ممکنہ حکم کے پیشِ نظر کی جا رہی ہیں۔ یہ حملہ اس صورت میں ہو سکتا ہے اگر جنیوا میں عمانی ثالثی میں آج جمعرات کو ہونے والے ایٹمی مذاکرات ناکام ہو جائیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ منگل کو 'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب میں ممکنہ امریکی کارروائی کے لیے اپنے دلائل پیش کرنا شروع کر دیے تھے۔ اس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ تہران کو جسے انہوں نے دہشت گردی کا دنیا کا سب سے بڑا سرپرست قرار دیا، ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

دوسری طرف ایران نے بارہا ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوششوں کی تردید کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں