جنیوا میں آج جمعرات کو ایران اور امریکہ کے درمیان ایٹمی معاملے پر مذاکرات کی بحالی کے باوجود، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میز سے فوجی آپشن ابھی تک ہٹایا نہیں گیا ہے۔ حالیہ جاری بات چیت سے با خبر دو افراد نے انکشاف کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر مشیر اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ امریکہ کے شامل ہونے سے پہلے اسرائیل ایران پر حملے میں پہل کرے۔
اخبار پولیٹیکو کے مطابق امریکی انتظامیہ کے حکام کا خیال ہے کہ اسرائیلی حملہ ایران کو جوابی کارروائی پر اکسائے گا، جس سے جوابی امریکی حملے کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ یا اس کے علاقائی اتحادیوں پر پہلے حملہ ہوا تو امریکی عوام تہران کے خلاف جنگ کو زیادہ آسانی سے قبول کر لیں گے۔ واشنگٹن میں فیصلہ سازی کے مراکز سے وابستہ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ انتظامیہ میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ اگر اسرائیلی تنہا پہل کریں اور ایران امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے، تو امریکہ کے پاس کارروائی کا زیادہ ٹھوس جواز ہوگا۔
اس خواہش کے باوجود کہ اسرائیل پہل کرے، ذرائع کا کہنا ہے کہ زیادہ ممکنہ منظرنامہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے گذشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران امریکی انتظامیہ پر زور دیا تھا کہ وہ ایرانی ایٹمی پروگرام، بیلسٹک میزائلوں کے ڈھانچے اور خطے میں مسلح گروہوں کی ایرانی حمایت کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔
جنیوا میں آج ڈونلڈ ٹرمپ کی مذاکراتی ٹیم، جس میں خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں ... ایرانی وفد کے ساتھ غیر معمولی مذاکرات کر رہی ہے جس کے سربراہ وزیر خارجہ عباس عراقچی ہیں۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلقوں کا ماننا ہے کہ وہ حملے کی طرف مائل ہیں۔ اس وقت امریکی انتظامیہ دو عوامل پر غور کر رہی ہے: پہلا، امریکی گولہ بارود کے ذخائر میں کمی کا خطرہ جو چین کو تائیوان کے خلاف موقع دے سکتا ہے اور دوسرا، جارحانہ آپشن کی صورت میں امریکی جانی نقصان کا اندیشہ۔
ذرائع کے مطابق اگر حملہ حکومت کی تبدیلی کے لیے ہوا تو ایران اپنی پوری طاقت سے جواب دے گا اور خطے میں موجود تمام امریکی اثاثے آسان ہدف بن سکتے ہیں۔ پینٹاگان اور انٹیلی جنس حکام نے بھی خبردار کیا ہے کہ طویل المدتی حملے امریکی عسکری ذخائر کو ختم کر سکتے ہیں اور ایران مشرق وسطیٰ یا یورپ میں غیر روایتی جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ شروع میں محدود ضرب لگا سکتے ہیں تاکہ تہران کو اپنی شرائط پر معاہدے کے لیے مجبور کیا جا سکے اور ناکامی کی صورت میں وسیع تر حملوں کا حکم دیا جا سکتا ہے۔ ان حملوں میں ایٹمی تنصیبات اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو نشانہ بنایا جائے گا۔ جہاں تک نظام کو نقصان پہنچانے کا تعلق ہے تو "سر قلم کرنے والی ضرب" یعنی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای یا پاسداران انقلاب کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانا بھی ایک آپشن کے طور پر زیر غور ہے۔