فرانسسکا البانیز کا اپنے خلاف اسرائیل و اتحادیوں کے زہرناک حملوں پر اظہار تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اقوام متحدہ کی فلسطینی علاقوں سے متلعق غیر جانبدار ماہر فرانسسکا البانیز نے جمعرات کے روز ان زہرناک حملوں کی مذمت کی ہے جو ان کی نجی زندگی پر اسرائیل اور اس کے حامی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ان کے خلاف یہ حملے ان کے کام اور زندگی دونوں کو متاثر کرنے والے ہیں۔

اقوام متحدہ کی غیر جانبدار ماہر کا یہ بیان بعض یورپی ریاستوں کی طرف سے اس مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے کہ فرانسسکا کو اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا چاہیے کیونکہ انہوں نے اسرائیل پر کھلے لفظوں میں اور براہ راست تنقید کی ہے۔

حالیہ ہفتوں کے دوران جرمنی، فرانس اور اٹلی نے البانیز کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے عہدے سے مستفی ہو کر گھر چلی جائیں۔
فرانسسکا البانیز ایک اطالوی قانون دان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے اسرائیل کے بارے میں خیالات کو سیاق و سباق سے الگ کر کے دیکھا گیا ہے۔

البانیز نے کہا کہ میں آپ کو بتا سکتی ہوں کہ کس طرح مجھ پر ایسے افسوسناک حملے کیے گئے ہیں جو میری شخصیت اور میرے خاندان کے لیے سخت تکلیف اور نقصان کا باعث ہیں۔ پچھلے چند دن، چند ہفتے بلکہ چند مہینوں سے میں اس تکلیف دہ صورتحال سے گزر رہی ہوں۔

البانیز جو کہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کی غیر جانبدار خصوصی ماہر ہیں نے ان خیالات کا اظہار اردن سے ویڈیو لنک پر صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

دریں اثناء خبر رساں ادارے 'روئٹرز' نے ایک ایسا خط بھی دیکھا ہے جو اسرائیلی حکومت نے جنیوا میں اپنے مستقل مشن کو لکھا ہے۔

خط میں البانیز کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہیں۔ یہ خط 15 فروری کو لکھا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے جہاں تک اس بات کا تعلق ہے جب سے ان کو اقوام متحدہ کی طرف سے اختیار دیا گیا ہے وہ اپنے رویے سے اقوام متحدہ کی ساکھ اور اخلاقی حیثیت کو کمزور کر رہی ہیں اور بار بار یہود مخالف گفتگو کرتی ہیں اور یہودیوں پر الزام لگاتی ہیں۔ البانیز اس اسرائیلی الزام کی تردید کرتی ہیں۔

منگل کے روز جنیوا میں فرانسیسی مشن کے لیے نمائندے نے اس تشویش کا دوبارہ اظہار کیا جو فرانس کے وزیر خارجہ البانیز کے بارے میں اس سے پہلے بیان کر چکے تھے۔

فرانسیسی مشن کے سربراہ نے کہا اقوام متحدہ کی نمائندہ کے بیانات انتہائی طور پر مسائل پیدا کرنے والے ہیں۔ تاہم سفارتی مشن کے سربراہ نے فرانسسکا البانیز کا نام لیے بغیر یہ بات کہی ہے۔

اس نے مزید کہا تمام نمائندوں جو اقوام متحدہ سے وابستہ ہیں اور خصوصی طور پر غیر جانبدار ماہرین کو اپنے کام کے دوران تحمل اور اعتدال سے کام لینا چاہیے۔ کیونکہ یہ ان کے ذمہ لگائے گئے کام اور اختیار کا بھی تقاضا ہے۔

البانیز نے ماہ جولائی میں امریکہ کی طرف سے اپنے اوپر لگائی پابندیوں کو بین الاقوامی سطح پر احتساب کی سرگرمیوں کو کمزور کرنے کی حکمت عملی قرار دیا۔
یاد رہے امریکہ نے انسانی حقوق کی کونسل کے لیے لکھی گئی البانیز کی اس رپورٹ پر پابندی عائد کی تھی۔ جس میں سفارش کی گئی تھی کہ امریکی و اسرائیلی حکام کے علاوہ ان کی کمپنیوں کے خلاف فوری طور پر بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ذریعے کارروائی کی جائے۔

اقوام متحدہ کی غیر جانبدار ماہر نے کہا کہ انہیں حالیہ حملوں کے ذریعے ان کاموں سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے جس کے ذریعے وہ جنگی جرائم میں ملوث شخصیات کے خلاف کام کر رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے صدر سدھارتو رضا نے پیر کے روز اقوا م متحدہ کے مینڈیٹ کی حامل شخصیت پر حملے کیے جانے پر تشویش ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ کونسل ان کی حمایت کے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتی ہے۔

کونسل کے صدر نے یہ بھی کہا کہ غیر جانبدار ماہرین اور نمائندوں کو آزادانہ ماحول اور موقع دینا اور ان کے تحفظ کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ تاکہ وہ مؤثر طریقے سے اپنا کام کر سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں