ایرانی سرکاری میڈیا نے اتوار کی صبح تصدیق کی ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اسرائیل اور امریکہ کے بڑے حملے کے نتیجے میں جان سے چلے گئے ہیں۔
اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند گھنٹے پہلے ان کی موت کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے ایرانیوں کو اپنا ملک ’واپس لینے‘ کا ’سب سے بڑا موقع‘ فراہم کیا ہے۔
التلفزيون الإيراني يؤكد مــقــتــل علي خـامـنـئـي pic.twitter.com/CSgxvCqPVh
— العربية (@AlArabiya) March 1, 2026
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی موت کے بعد ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ایران میں امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی بیٹی اور داماد بھی جان سے گئے۔
فارس نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ہفتے کو ہونے والے حملوں میں خامنہ ای کا پوتا یا نواسہ اور بہو بھی جان سے گئے۔
اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے کہا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر ساتھیوں کے ہمراہ زیر زمین بنکر میں تھے، آیت اللہ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ پر 30 بم گرائے گئے۔ ایرانی سپریم لیڈر درجنوں ساتھیوں سمیت مارے گئے۔
اسرائیلی میڈیا نے کہا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت کی تصویر امریکی صدر کو دکھائی گئی۔ ادھر بر طانوی میڈیا نے بھی اسرائیلی حکام کے حوالے سے کہا تھا کہ خامنہ ای کے جسد خاکی ملنے کی خبر دی ہے۔
رويترز عن مصادر: أميركا وإسرائيل نفذتا الغارات أثناء اجتماع خامنئي بدائرته المقربة pic.twitter.com/wfpYg8RagM
— العربية (@AlArabiya) March 1, 2026
اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈر خامنہ اب نہیں رہے لیکن خامنہ ای کی موت کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کا کہنا تھاکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر بھی مارے گئے ہیں، خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو تباہ اور سینئر جوہری حکام بھی مارے گئے اور آنے والے دنوں میں دہشت گرد حکومت کے مزید ہزاروں اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔
حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایرانی وزیر دفاع امیر ناصر زادہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور کے بھی کام آنے کی اطلاعات ہیں۔
ایرانی صدارتی محل اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب سات میزائل گرے تاہم ایران نے صدر مسعود پزشکیان اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے محفوظ رہنے کا اعلان کیا۔
ادھر سپریم لیڈر کی موت کے سرکاری میڈیا پر اعلان کے بعد تہران میں شہری سوگوار ہیں۔ اے ایف پی کے صحافیوں کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد اتوار کو ایران کے دارالحکومت کے انقلاب سکوائر میں ہزاروں سوگوار جمع ہوئے۔
زیادہ تر لوگوں نے سیاہ رنگ کا لباس پہن رکھا تھا اور وہ آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر اٹھائے ’مرگ بر امریکہ‘ اور ’مرگ بر اسرائیل‘ کے نعرے لگاتے نظر آئے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بحری اور فضائی حملے کیے جن میں 201 ایرانی شہری جاں بحق اور 747 زخمی ہو گئے۔