علی خامنہ ای مارے گئے ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ

ایرانی سپریم لیڈر امریکی انٹیلی جنس اور جدید ترین ٹریکنگ سسٹم سے نہ بچ سکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کی ہلاکت کا اعلان کر دیا ہے۔

انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا کہ خامنہ ای امریکی انٹیلی جنس اداروں اور انتہائی جدید ٹریکنگ سسٹم سے بچنے میں ناکام رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قتل کا یہ آپریشن اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون سے مکمل کیا گیا، انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ایرانی سپریم لیڈر یا ان کے ساتھ مارے جانے والے دیگر رہنما کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں رہے تھے۔

اس کے علاوہ امریکی صدر کا خیال ہے کہ ایرانی عوام کے لیے اپنا وطن واپس حاصل کرنے کا یہ سب سے بڑا موقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں ایسی معلومات ملی ہیں جن کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب، فوج، سکیورٹی فورسز اور دیگر پولیس اہلکار اب تعاون نہیں کرنا چاہتے اور امریکی تحفظ (امیونٹی) حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ "اب وہ تحفظ حاصل کر سکتے ہیں، لیکن بعد میں انہیں صرف موت ملے گی!"۔

ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ پاسداران انقلاب اور پولیس پرامن طور پر ایرانیوں کے ساتھ مل جائیں گے اور ملک کو اس کی مستحق عظمت واپس دلانے کے لیے ایک ٹیم کے طور پر کام کریں گے۔

ان کا خیال تھا کہ یہ عمل جلد شروع ہونا چاہیے، کیونکہ بات صرف خامنہ ای کی وفات تک محدود نہیں بلکہ صرف ایک دن میں ملک مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور تقریباً فنا ہونے کے قریب ہے۔

پھر انہوں نے پورا ہفتہ یا مقصد کے حصول تک بلا تعطل شدید اور درست بمباری جاری رکھنے کا اعلان کیا تاکہ پورے مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں امن قائم کیا جا سکے۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب رائٹرز کے مطابق ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے ہفتے کے روز ایرانی مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ ایجنسی نے اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ خامنہ ای کی لاش مل گئی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی چینل 12 نے تصدیق کی ہے کہ خامنہ ای مارے گئے ہیں اور ان کی لاش ان کے ہیڈ کوارٹر کے ملبے سے نکال لی گئی ہے۔ چینل نے مزید کہا کہ خامنہ ای کی لاش کی دستاویزی فلم اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کو دکھا دی گئی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایرانی لیڈر علی خامنہ ای اب موجود نہیں رہے، جو ان کو نشانہ بنانے کے آپریشن کی کامیابی کی علامت ہے۔ نیتن یاھو نے بتایا کہ اسرائیلی فضائی حملوں نے خامنہ ای کا ہیڈ کوارٹر تباہ کر دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ایرانیوں کو نظام گرانے کے لیے سڑکوں پر نکل کر اس مشن کو مکمل کرنا چاہیے۔ انہوں نے اپنے خطابات کا مخصوص جملہ پھر دہرایا کہ: "ہم مشرق وسطیٰ کا چہرہ بدل دیں گے"۔

ایران کی تردید

اس کے برعکس ایرانی سرکاری میڈیا نے خامنہ ای کے دفتر میں تعلقات عامہ کے سربراہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ "دشمن نفسیاتی جنگ کا سہارا لے رہا ہے اور سب کو ہوشیار رہنا چاہیے"۔ انہوں نے سپریم لیڈر کی ہلاکت کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خامنہ ای ثابت قدم ہیں اور میدان کی قیادت کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ چینل 12 نے وضاحت کی تھی کہ اسرائیلی فوج نے خامنہ ای کی رہائش گاہ پر 30 بم گرائے تھے اور بتایا تھا کہ علی خامنہ ای زیر زمین تھے لیکن امکان ہے کہ وہ اپنی مخصوص پناہ گاہ میں موجود نہیں تھے۔ چینل نے یہ بھی بتایا کہ ایران پر پہلے حملے میں 30 دیگر ایرانی حکام کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں