سعودی عرب میں جدہ کے تاریخی علاقے کو ’’ جدہ تاریخیہ ‘‘ کہا جاتا ہے۔ رمضان مبارک کے پہلے ہفتے کے دوران ’’ جدہ تاریخیہ ‘‘ نے دس لاکھ سے زائد زائرین کا استقبال کیا جو مملکت سعودی عرب اور خطے میں اس مقام کے ایک ممتاز رمضان کی منزل کے طور پر ابھرنے کی واضح علامت ہے۔
زائرین کی اس غیر معمولی تعداد نے یونیسکو کی فہرست میں شامل اس علاقے کی اہمیت کو مزید اجاگر کردیا۔ رمضان کریم میں لوگوں کی بڑی تعداد کی آمد نے اس کی قدیم تعمیراتی ورثے اور جدید ثقافتی سرگرمیوں کو یکجا کرنے کی صلاحیت کی بھی تصدیق کردی ہے۔
مقام کی شناخت اور تاریخی روح
منعقدہ تقریبات "جدہ تاریخیہ" کی شناخت اور تاریخی روح کے عین مطابق تھیں جہاں گلیوں اور بازاروں میں حجازی طرز زندگی کی عکاسی کرنے والے انٹرایکٹو شوز پیش کیے گئے۔ رمضانی دسترخوان اور عوامی بازاروں نے ماضی کے نقش و نگار کو عصری انداز میں دوبارہ زندہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نصیف ہاؤس، زینل ہاؤس اور ریڈ سی میوزیم جیسے تاریخی مکانات اور عجائب گھروں میں لوگوں کی بڑی تعداد امڈ آئی ۔ ان مقامات پر جدہ کی تاریخ بطور باب الحرمین اور ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر دستاویزی شکل میں پیش کی گئی۔
تجارتی سرگرمیاں اور روایتی دستکاری
اس تاریخی مقام میں موجود سوق العلوی اور سوق باب مکہ جیسے تاریخی بازاروں نے اپنا سماجی کردار دوبارہ حاصل کر لیا ہے جہاں تجارتی سرگرمیاں روایتی دستکاریوں اور لوک داستانوں کے ساتھ مل کر ایک ایسا زندہ ماحول پیدا کرتی ہیں جو مقام کی یادوں کو تازہ کر دیتا ہے۔ اس عوامی چہل پہل کے ساتھ ساتھ بہترین انتظامی انتظامات بھی کیے گئے تھے جن میں آمد و رفت کے واضح راستے، وسیع لاجسٹک سہولیات اور ڈیجیٹل گائیڈ شامل تھی۔ ان طریقے نے ہجوم کو موثر طریقے سے سنبھالنے اور زائرین کے لیے آرام دہ تجربہ یقینی بنانے میں مدد دی۔
یہ سرگرمیاں ایک جامع ترقیاتی منصوبے کا حصہ ہیں جو تاریخی جدہ کے ثقافتی اور اقتصادی پہلوؤں کو فروغ دے کر اسے ایک عالمی سطح کا ورثہ مقام بنانے کی کوشش کرتی ہیں جو سعودی ’’ ویژن 2030 ‘‘ کے پائیدار سیاحتی اہداف سے ہم آہنگ ہے۔