میں بازی لے گیا، خامنہ ای مجھے قتل کرتا، میں نے ہی اسے مار دیا: ٹرمپ

علی خامنہ ای نے دو بار مجھے قتل کرنے کی کوشش کی تھی: امریکی صدر کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے میں پہل کی ہے۔ اس سے پہلے کہ ایرانی مرشد علی خامنہ ای مجھے قتل کرنے کی نئی کوشش کر پاتے۔ میں نے انہیں مار دیا۔

ٹرمپ نے زور دیا کہ تہران ماضی میں دو بار مجھے مارنے کی کوشش کر چکا ہے۔ "اے بی سی نیوز" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا میں اس تک پہنچ گیا اس سے پہلے کہ وہ مجھ تک پہنچتا۔ انہوں نے دو بار کوشش کی، لیکن میں ان سے بازی لے گیا۔

ٹرمپ کے یہ بیانات ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں تیزی اور ان کوششوں کی نئی جانچ پڑتال کے سائے میں سامنے آئے ہیں جنہیں واشنگٹن 2024 کی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی ایرانی کوششیں قرار دیتا ہے۔ امریکی استغاثہ نے 2024 میں کئی افراد پر ایران سے وابستہ قتل کے مبینہ منصوبوں کے پس منظر میں الزامات عائد کیے تھے۔ ان حملوں میں ٹرمپ کو نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ صدارتی امیدوار تھے۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب سے وابستہ عناصر نے حملے کرنے کے لیے امریکہ کے اندر لوگوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ حملے 2020 کے اس امریکی فضائی حملے کے جواب میں تھے جس میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کیا گیا تھا۔ ایک کیس میں وفاقی حکام نے اعلان کیا کہ ایک مشتبہ شخص نے کرائے کے قاتلوں کو بھرتی کرنے کی کوشش کی جو بعد میں ایک سخت سکیورٹی آپریشن کے دوران ایف بی آئی کے خفیہ ایجنٹ نکلے۔ استغاثہ نے ان کوششوں کو موجودہ اور سابق امریکی حکام کو نشانہ بنانے کی وسیع تر ایرانی مہم کا حصہ قرار دیا۔ دوسری طرف تہران نے ان منصوبوں میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ حالیہ امریکی فوجی آپریشن نے ایرانی کمانڈ ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکمران نظام کی جانشینی کے لیے جو نام زیرِ غور تھے، انہیں حملوں سے پہلے ہی نشان زد کر لیا گیا تھا لیکن وہ ابتدائی حملے میں ہی مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ حملہ اس حد تک کامیاب رہا کہ اس نے زیادہ تر امیدواروں کا صفایا کر دیا۔ جن لوگوں کو ہم مدنظر رکھے ہوئے تھے ان میں سے کوئی باقی نہیں بچا کیونکہ وہ سب مارے جا چکے ہیں۔ یہاں تک کہ جو دوسرے یا تیسرے درجے پر تھے وہ بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں