برطانیہ : سعودی طالب علم محمد القاسم کے قاتل کو عمر قید کی سزا

عدالت نے مجرم کو "پیرول پر رہائی" کی درخواست دینے سے قبل کم از کم 22 سال اور 6 ماہ قید کی سزا سنائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

کیمبرج کی برطانوی کراؤن کورٹ نے سعودی طالب علم محمد القاسم کے قتل کے مجرم "چاز کوریگن" کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نے مجرم کو پیرول پر رہائی کی درخواست کرنے سے قبل کم از کم 22 سال اور 6 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ ساتھ اس رائے کا اظہار کیا کہ جرم کی سنگینی سزا میں کسی قسم کی تخفیف کی اجازت نہیں دیتی۔

یہ فیصلہ ایک ایسے عدالتی عمل کے بعد سامنے آیا ہے جو کئی مہینوں پر محیط تھا۔ اس دوران عدالت نے نگرانی کی ریکارڈنگ، فرانزک رپورٹس اور گواہوں کے بیانات کا جائزہ لیا، حالانکہ دفاع کی جانب سے اس واقعے کو دفاعِ نفس قرار دینے کی کوشش کی گئی تھی۔

عدالت نے پراسیکیوشن کے اس موقف کی تائید کی کہ ملزم براہِ راست مہلک وار کا ذمہ دار ہے اور اس بات کی تصدیق کی کہ ٹھوس شواہد مقدمے کے دوران پیش کیے گئے دعوؤں کو رد کرتے ہیں۔

یہ واقعہ یکم اگست 2025 کی شام پیش آیا، جب 20 سالہ سعودی طالب علم محمد القاسم کو کیمبرج میں اسٹوڈنٹ رہائش گاہ کے قریب چاقو کے حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اس کی گردن پر مہلک زخم آیا۔

اسی سلسلے میں تحقیقات سے پتا چلا کہ ملزم نے جائے وقوعہ سے جانے سے قبل طلبہ کے گروپ کے قریب جانے کی کوشش کی اور پھر واپس آ کر حملہ کیا۔ نگرانی کرنے والے کیمروں نے واردات کے فوراً بعد اسے جائے وقوعہ سے فرار ہوتے ہوئے بھی ریکارڈ کیا تھا۔

مجرم کوریگن نے اعتراف کیا کہ واردات کی رات اس کے پاس آلہِ قتل موجود تھا اور اس نے شراب اور منشیات کا استعمال کر رکھا تھا۔ تاہم اس نے قتل کے ارادے سے انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے ہتھیار کا استعمال صرف ڈرانے دھمکانے کے لیے کیا تھا۔

دریں اثنا فرانزک رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ چاقو کا زخم گردن میں 11.5 سینٹی میٹر کی گہرائی تک گیا اور ایک مرکزی شریان کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں حملے کے فوراً بعد القاسم موت واقع ہو گئی۔

پولیس نے آلہِ قتل اور ملزم کے کپڑے جائے وقوعہ کے قریب سے برآمد کر لیے تھے، جس نے عدالت میں پراسیکیوشن کے موقف کو مضبوط کیا۔

جیوری نے دو ہفتوں تک شواہد کا جائزہ لینے اور گواہوں کے بیانات سننے کے بعد دو گھنٹے کی بحث کے بعد سزا کا فیصلہ سنایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں