ٹرمپ حکام: اسرائیل کے منصوبوں کی وجہ سے امریکہ ایران جنگ میں داخل ہوا
امریکہ حملے جاری رکھنے کے لیے پرعزم، اگلا مرحلہ زیادہ سخت ہو گا
ٹرمپ انتظامیہ اور کانگریس میں اس کے اتحادیوں نے پیر کو ایران پر امریکی حملے کے لیے ایک بدلتا ہوا نیا جواز پیش کیا۔ اس حوالے سے سپیکر مائیک جانسن نے تجویز پیش کی کہ وائٹ ہاؤس کا خیال تھا کہ اسرائیل اپنے طور پر کارروائی کرنے کے لیے پرعزم تھا جس سے صدر کو "بہت مشکل فیصلہ" کرنا پڑا۔
ریپبلکن امیدوار پیر کے اواخر میں کیپیٹل میں ایک خفیہ بریفنگ کے بعد بات کر رہے تھے جو جنگ شروع ہونے کے بعد کانگریس کے رہنماؤں کے لیے پہلی بریفنگ تھی۔ جنگ میں کم از کم چھے امریکی فوجیوں سمیت سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
جانسن نے کہا کہ ایران پر حملہ ایک "دفاعی کارروائی" تھی کیونکہ اسرائیل "امریکی حمایت کے ساتھ یا اس کے بغیر" ایران کے خلاف کارروائی کے لیے تیار تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے تعین کیا کہ ایران امریکی اہلکاروں اور اثاثہ جات کے خلاف فوری جوابی کارروائی کرے گا۔
جانسن نے کہا، "کمانڈر ان چیف نے کہا ہے کہ یہ ایک مختصر آپریشن ہو گا۔ ہمیں یقیناً امید ہے کہ یہ درست ہے۔"
ٹرمپ انتظامیہ کے بیان کردہ استدلال میں قابلِ ذکر تبدیلی اس وقت آئی ہے جب پورے خطے میں دشمنی گہری اور وسیع ہوتی جارہی ہے۔ صدر نے خود اندازہ لگایا کہ جنگ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ قانون سازوں نے کہا، انتظامیہ فوجی کوششوں کی حمایت کے لیے کانگریس سے اضافی فنڈز حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو صدر کی امریکہ کو بیرونی امور میں نہ الجھانے اور 'سب سے پہلے امریکہ' مہم کے بالکل برعکس ہے۔
سکریٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو نے کہا، "سخت ترین حملے ابھی باقی ہیں" کیونکہ امریکہ ایران پر حملے جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے خواہ اس میں کتنا ہی وقت اور وسائل صرف ہوں اور جنگ کا اگلا مرحلہ "اس سے بھی زیادہ شدید" ہو گا۔
روبیو نے اسے بنیادی طور پر ایک ممکنہ مسلسل اور دور رس اثر قرار دیا جو ان کے بقول امریکہ کے لیے ایک "عنقریب خطرہ" تھا۔
انہوں نے کہا، "ہمیں معلوم تھا کہ اسرائیلی کارروائی ہونے والی تھی۔ اور ہم جانتے تھے کہ اگر ہم نے ان حملے شروع ہونے سے پہلے پیشگی کارروائی نہ کی تو ہمیں زیادہ جانی نقصان ہو گا۔"
روبیو نے کہا، اگرچہ امریکہ ایرانی عوام کو اٹھتے ہوئے اور حکومت سے نجات پاتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے لیکن "مقصد یہ نہیں ہے۔ اس مشن کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ان کے پاس ایسے ہتھیار نہ ہوں جو ہمارے اور خطے میں ہمارے اتحادیوں کے لیے خطرہ بن سکیں۔"
ٹرمپ کے بدلتے ہوئے استدلال پر تنقید
روبیو، سکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ اور انتظامیہ کے دیگر عہدیداروں نے خفیہ بریفنگ دی کیونکہ کانگریس میں جنگی اختیارات کی ایک قرارداد زیرِ غور ہے جو ایوان اور سینیٹ کی منظوری کے بغیر ٹرمپ کی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کو روک دے گی۔
ٹرمپ نے خود وائٹ ہاؤس میں خطاب کے دوراں جنگ کے چار مقاصد بیان کیے: امریکی افواج ایران کی میزائل صلاحیتیں ختم کرنے، اس کی بحری صلاحیت کو مٹا دینے، ملک کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہیں کہ "ایرانی حکومت اپنی سرحدوں سے باہر دہشت گردوں کی افواج کو اسلحہ، مالی اعانت اور براہِ راست مدد جاری نہ رکھ سکے۔"
ٹرمپ نے کہا، "یہ ہمارا آخری، بہترین موقع تھا - جو ہم اس وقت کر رہے ہیں - کہ حملہ کر کے اس بیمار اور مذموم حکومت سے لاحق ناقابلِ برداشت خطرات ختم کریں۔"
پیر کے اوائل میں ہیگستھ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ "لامتناہی جنگ" نہیں ہو گی حالانکہ انہوں نے آئندہ ہفتوں میں مزید امریکی ہلاکتوں کے امکان سے خبردار کیا۔
لیکن انٹیلی جنس کمیٹی کے اعلیٰ ڈیموکریٹ سینیٹر مارک وارنر نے کہا: "ایرانیوں کی طرف سے امریکہ کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔ خطرہ اسرائیل کو تھا۔"
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنگ کے لیے اپنا مقدمہ اور اس سے نکلنے کا منصوبہ لے کر ٹرمپ "کانگریس اور امریکی عوام کے سامنے آئیں"۔
کئی ڈیموکریٹس نے جنگ کے خلاف شعلہ بیاں تقاریر کیں۔ اوریگون کے سینیٹر جیف مرکلے نے بآواز بلند کہا "کیا اب ہم اتنی کمزور قوم ہیں کہ اسرائیل فیصلہ کرے گا کہ ہمیں کب جنگ کرنی ہے؟"
صدارتی طاقت کی جانچ کے طور پر جنگی اختیارات
یہ لمحہ کانگریس کے لیے فیصلہ کن اور تاریخی ہے جسے امریکی آئین کے تحت اعلانِ جنگ کا تنہا اختیار حاصل ہے اور ریپبلکن صدر کے لیے جنہوں نے اپنی دوسری مدت کے دوران مسلسل اقتدار پر قبضہ کیا ہے۔
ٹرمپ قوم کو خاص طور پر ایک خطرناک وقت میں جنگ کی طرف لے گئے ہیں کیونکہ محکمہ داخلی سلامتی معمول کے فنڈز کے بغیر کام کر رہا ہے۔ جنگ کے دوران ہونے والے جانی نقصانات اور خرچ کردہ ممکنہ اخراجات فریقین اور خود امریکیوں کو تقسیم کر رہے ہیں۔
امریکہ کے موجودہ حملے ختم ہونے کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
"یہ تشویشناک ہے،" ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ نمائندہ ایڈم سمتھ نے دی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا۔
سمتھ نے ٹرمپ کے بارے میں کہا: "وہ اپنا مقدمہ کانگریس یا امریکی عوام کے سامنے پیش کرنے کی کوشش نہیں کر رہے، انہوں نے یکطرفہ طور پر ایسا کرنے کا فیصلہ کیا۔"
درحقیقت کانگریس نے ملک کی تاریخ میں صرف پانچ بار اعلانِ جنگ کیا ہے۔ وقت کے ساتھ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے صدور نے محدود تر امریکی فوجی حملوں میں ملوث ہونے کے لیے وسیع اختیارات حاصل کر لیے ہیں۔
جانسن نے کہا کہ ٹرمپ کے ہاتھ باندھنا ابھی "خوفناک" ہو گا کیونکہ وہ جنگی طاقتوں کی قرارداد ناکام بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
حتیٰ کہ اگر کانگریس اس ہفتے یہ اقدام منظور کر لے تو بھی صدارتی ویٹو ختم کرنے کے لیے ایوان اور سینیٹ میں درکار دو تہائی اکثریت کا امکان نہیں ہو گا۔
ایرانی عوام کے لیے اگلے اقدامات غیر یقینی
اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ ایرانی عوام کو اٹھ کھڑے ہونے اور نئے راہنماؤں کا انتخاب کرنے کی ترغیب دیتی ہے لیکن جمہوریت یا قوم کی تعمیر میں کسی بھی کوشش کے لیے وسیع پیمانے پر امریکی حمایت نظر نہیں آتی۔
روبیو نے کہا، "ہم اس حکومت کو تبدیل ہوتے دیکھنا پسند کریں گے۔ اگر ہم اس کے خاتمے میں ان کی کچھ مدد کر سکتے ہیں تو ظاہر ہے کہ ہم اس کے لیے تیار ہوں گے۔ لیکن یہ مقصد نہیں ہے۔"
ٹرمپ کے ایک سرکردہ اتحادی سین لنزے گراہم نے کہا کہ وہ دورانِ جنگ نقصانات کی ذمہ داری لینے کے تصور کے حامی نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا، "اگر امریکہ کو کوئی خطرہ ہے تو اس سے نمٹیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اس کے بعد ہونے والی ہر چیز کی ذمہ داری لے لیں۔"