آذربائیجان نے جمعرات کے روز ایران کے نزدیکی علاقوں میں اپنی پروازیں روک دی ہیں۔ آذربائیجانی سرحد سے جڑے جنوبی علاقوں میں یہ فیصلہ چار ایرانی ڈرونز کے اڑنے کے واقعات کے بعد کیا گیا ہے۔
اعلان کے مطابق پروازوں کی یہ بندش اگلے 12 گھنٹوں تک موجود رہے گی۔ اس سلسلے میں پروازوں سے متعلقہ تمام حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل آذربائیجانی صدر نے ایران پر الزام لگایا تھا کہ ایران نے ڈرونز بھیجے جانے کے بعد آذربائیجان کو دہشت گردی اور جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
آذربائیجان میں ایرانی ڈرونز کی وجہ سے 4 افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس طرح وسط ایشیائی ریاست بھی ان ملکوں میں شامل ہوگئی ہے جو ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی مشترکہ جنگ کے بعد ایرانی میزائل حملوں یا ڈرون حملوں کا نشانہ بنے۔
تہران نے آذربائیجان کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔ مزید یہ کہ آذربائیجان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اسرائیل کا اتحادی ہے اور ایران کو مشتعل کرنا چاہتا ہے۔
خیال رہے آذربائیجان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات موجود ہیں۔ جبکہ آذربائیجانی سرحد کے نزدیک پرواز کے دوران ہی پچھلے سال ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر مبینہ حادثے کا شکار ہوا تھا جس میں ایرانی وزیر خارجہ امیر عبداللہیان اور ایک صوبائی گورنر سمیت کئی اعلیٰ حکام موجود تھے۔
آذربائیجان کے صدر نے عجلت میں بلائی گئی قومی سیکیورٹی کونسل کی میٹنگ میں کہا ہے آج کی دہشت گردانہ کارروائی ایران کی طرف سے کیا گیا اور اس کارروائی کا نشانہ آذربائیجان کی سرزمین تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ آذربائیجان کی فوج کو فوری جوابی کارروائیوں کی تیاری کا حکم دے دیا گیا ہے۔ فوج کی نقل و حرکت اور چوکسی کو اعلیٰ ترین درجے پر کر دیا گیا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو فوج کسی بھی کارروائی کے لیے تیار ہوگی۔ جن لوگوں نے ہمارے خلاف یہ کارروائی کی ہے انہیں اس دہشت گردانہ عمل پر افسوس ہوگا۔
ایران ایک طویل عرصے سے اس تشویش کا اظہار کر رہا ہے کہ اسرائیل آذربائیجان کا ایک قریبی اتحادی ہے جو آذربائیجان کو اسلحہ فراہم کرتا ہے۔ اس لیے وہ آذربائیجان کی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
پچھلے سال جون میں آذربائیجان نے ایران کو یقین دلایا تھا کہ آذربائیجان اسرائیل کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔