عرب لیگ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب سفیر عبدالعزیز بن عبداللہ المطر نے کہا ہے کہ کل اتوار کو عرب لیگ کا وزارتی سطح پر ایک آن لائن اجلاس منعقد ہوگا جس میں مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال، بالخصوص ایرانی خلاف ورزیوں پر بحث کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی کارروائیوں نے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے عرب ملکوں کی سلامتی اور خودمختاری کو نشانہ بنایا ہے۔
سعودی سفیر عبدالعزیز بن عبداللہ المطر نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ ‘‘ کو بتایا کہ اجلاس منعقد کرنے کی درخواست سعودی عرب، مصر، اردن، کویت، بحرین، قطر اور عمان کی جانب سے پیش کی گئی ہے جس کا مقصد عرب ملکوں پر ہونے والے حملوں سے نمٹنے کے لیے ایک متحد عرب موقف مرتب کرنا ہے۔ عبدالعزیز بن عبداللہ المطر نے واضح کیا کہ عرب ملکوں پر ایرانی حملے ایک خطرناک اور ناقابل قبول اشتعال انگیزی ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور حسن جوار کے ان اصولوں کے خلاف ہے جو ایران اور دیگر عرب ملکوں کے درمیان ہونے چاہئیں۔
سعودی سفیر المطر نے خبردار کیا کہ ایرانی حملے ایران اور اس کے عرب پڑوسیوں کے درمیان دشمنی کی ایک غیر معمولی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔ یہ حملے ایران اور اس کے پڑوسیوں کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کر رہے ہیں جو مستقبل میں گہرے اثرات چھوڑے گی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سب سے زیادہ خطرناک بات موجودہ تصادم کا پھیلاؤ ہے۔ ایران کی جانب سے تیزی سے اصلاح کے بغیر یہ حالات برقرار رہے تو تصادم مزید بڑھتا جائے گا۔
سفیر المطر نے یہ بھی کہا کہ خطے کے ممالک کے خلاف ایران کا بار بار کا جارحانہ رویہ ایک ایسے معاندانہ طرز عمل کو بے نقاب کرتا ہے جس کا کسی بھی صورت میں جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ واضح طور پر بین الاقوامی قوانین، روایات اور حسن جوار کے اصولوں سے متصادم ہے اور خطے کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیل رہا ہے۔