پوپ لیو کا مشرق وسطیٰ میں ایرانی حملوں پر اظہار تشویش، بمباری رکنے کی دعائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مسیحیوں کے کیتھولک فرقے کے پوپ نے ایران کی طرف سے پورے مشرق وسطیٰ میں مسلسل میزائل حملوں کو مضطرب کرنے والے واقعات اورخبروں سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نےاس امر کا اظہار اتوار کے روز کیا ہے۔

پوپ نے مزید کہا وہ تشدد کے باعث سخت دکھ اور کرب محسوس کر رہے ہیں، اس تشدد کو جلد ختم ہونا چاہیے اور مکالمے کے لیے موقع بننا چاہیے۔

پوپ نے سینٹ پیٹرز سکوائر میں 'اینجلس پریئر' کے دوران کہا اس جنگ کی وجہ سے خوف اور نفرت کو ایندھن مل رہا ہے۔ اندیشہ ہے کہ یہ تصادم مزید پھیل سکتا ہے۔

پوپ لیو مسیحیوں کے سب سے بڑے فرقے کے مذہبی پیشوا ہیں۔ ان کا امریکہ اور یورپی ممالک میں بطور خاص عزت و احترام پایا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ان ملکوں کے حکمران بھی پوپ کو اپنے پیشوا کے طور پر سمجھتے ہیں۔

مگر پوپ نے ایران کے خلاف امریکہ و اسرائیل کی 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے بارے میں اتوار کے روز پہلی بار اظہار افسوس کے لیے بیان دیا ہے۔ انہوں نے کسی جارح یا متحارب ملک کا نام بی نہیں لیا نہ اس سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی جانوں سے کھینے کا وحشیانہ سلسلہ روکے۔

انہوں نے کہا ہے جنگ پھیل کر دوسرے ملکوں کو بھی اس کشیدگی میں گھسیٹ سکتی ہے۔ ان ملکوں میں لبنان بھی شامل ہو سکتا ہے۔

اس لیے ہم اپنی دعائیں اللہ سے کریں کہ یہ بم رک جائیں۔ ہتھیار خاموش ہو جائیں اور مذاکرات کے لیے راستہ کھل جائے، تاکہ لوگوں کی آوازیں سنی جا سکیں۔

یاد رہے اب تک ایران میں لگ بھگ 1300 لوگ اس بمباری کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ ان میں 30 فیصد بچے بھی شامل ہیں صرف ایک ایرانی سکول میں تقریباً 170 بچیاں قتل کی گئی ہیں۔ اسرائیل میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک درجن کے قریب ہے اور کویت میں ہلاک شدہ امریکی فوجیوں کی تعداد چھ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں