10 مئی 1940 کو جرمن افواج نے فرانس پر حملہ شروع کیا، ایک تیز اور اچانک کارروائی کے تحت جس میں فرانس کی فوج کو اردین کے جنگلات کے راستے دھوکہ دے کر عبور کیا گیا۔
اسی سال 25 جون تک یہ فوجی کارروائی فرانس کی شکست اور جرمن شرائط کے تحت ہتھیار ڈالنے کے ساتھ ختم ہوئی۔
اس کے بعد ایڈولف ہٹلر کی نظریں برطانیہ کی طرف اٹھیں۔ اس نے برطانیہ پر قبضہ یا اسے جرمن امن معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے اقدامات کرنے کا حکم دیا، تاکہ وہ سوویت یونین کے خلاف بڑی فوجی مہم پر توجہ مرکوز کر سکے۔
اس مقصد کے حصول کے لیے جرمنی نے برطانیہ پر شدید بمباری کی مہمات شروع کیں۔ 15 ستمبر 1940 کو، برطانیہ کے آسمان میں ایک فیصلہ کن فضائی معرکہ ہوا، جس نے جنگ کے رخ کو بدل دیا۔
برطانیہ کے انکار کے بعد جرمنی کی فضائی کارروائی
فرانس کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے میں کامیابی کے بعد جرمن افواج نے ''آپریشن سی لبیس'' (Plan Sea Lion) کے تحت برطانیہ پر حملے اور اس کے علاقوں پر قبضے کی منصوبہ بندی کی۔
اس منصوبے کے تحت ایڈولف ہٹلر کا مقصد برطانیہ کو جنگ سے مکمل طور پر باہر کرنا تھا تاکہ وہ مشرق میں سوویت یونین کے خلاف بڑی فوجی مہم پر توجہ مرکوز کر سکے۔
منصوبے کی کامیابی کے لیے جرمنی نے پہلے برطانوی شاہی فضائیہ (RAF) کو ختم کرنے کی کوششیں شروع کیں تاکہ بحری انخلا کے عمل کو آسان بنایا جا سکے۔
جولائی 1940 سے جرمن فضائیہ نے برطانوی بحری جہازوں، لڑاکا طیاروں اور ہوائی اڈوں پر حملے شروع کیے۔ جرمن طیارے ریڈار اسٹیشنز اور فوجی چھاؤنیوں پر بھی شدید بمباری کرتے رہے۔
برطانیہ کی جانب سے جرمن شہروں پر بمباری کے جواب میں ہٹلر نے برطانیہ کے دارالحکومت لندن اور دیگر شہروں پر حملے کا حکم دیا، تاکہ ونسٹن چرچل کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے۔لیکن برطانوی عوام اور حکومت نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد جرمنی نے ستمبر 1940 کے وسط میں ایک بڑے فضائی حملے کی مہم شروع کی، جس کا مقصد شاہی فضائیہ کو ختم کرنا اور برطانیہ کے آسمان پر مکمل قبضہ حاصل کرنا تھا۔
جرمن فضائی حملے کی ناکامی
15 ستمبر 1940 کی صبح 10 بجے سے 11 بجے کے درمیان جرمن طیارےجس میں ہنکل ہی 111 ،ڈورنیئر ڈو 17،جونکرز جو 88 اور مسرشمیٹ ایف 109 شامل تھے،بیلجیم اور فرانس سے برطانیہ کی طرف روانہ ہوئے۔جب یہ طیارے چینل عبور کر رہے تھے، تو انہیں برطانوی ریڈار نے فوراََ پکڑ لیا۔ برطانوی فوجی قیادت نے طیاروں کے بیڑے کو فوری طور پر جرمن حملے کو روکنے کے لیے روانہ کیا۔
اس دن کے دوران انگلینڈ کے آسمان میں برطانوی اور جرمن طیاروں کے درمیان فضائی مقابلے شروع ہو گئے، جو لندن کے آسمان تک پھیل گئے۔ جرمنوں نے اپنی کئی طیارے کھو دیے، جس کے بعد انہیں برطانیہ کے فضائی حدود سے واپس لوٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔
شام کے وقت جرمن طیاروں نے دوسری بمباری کی کوشش کی تاکہ لندن کو نشانہ بنایا جا سکے، لیکن شاہی فضائیہ نے اپنی تمام دستیاب طیاروں کے بیڑے تعینات کر دیے۔
جرمنوں کو بھاری نقصانات اور متعدد طیاروں کی تباہی کا سامنا کرنا پڑا اور آخرکار وہ دوبارہ اپنے اڈوں کی طرف واپس لوٹ گئے۔یوں یہ حملہ جرمنی کے لیے مکمل ناکام ثابت ہوا۔
بھاری نقصانات
15 ستمبر 1940 کے حملے کے دوران جرمن افواج نے ہزار سے زائد لڑاکا طیارے استعمال کیے، جن میں بمبار اور انٹرسیپٹر طیارے شامل تھے، جبکہ برطانوی دفاع کے لیے تقریباً 700 طیارے میدان میں تھے۔
حملے کے اختتام پر جرمنوں نے 59 طیارے کھو دیے اور متعدد دیگر طیارے شدید نقصان کا شکار ہوئے۔اس ناکامی کے بعد ایڈولف ہٹلر نے برطانیہ پر حملے کا منصوبہ مؤخر کیا اور بعد میں اسے مکمل طور پر منسوخ کر دیا۔
دن کے وقت بمباری میں اتنے بھاری نقصانات کے باعث جرمن فضائیہ نے رات کی بمباری پر انحصار شروع کر دیا تاکہ مزید طیارے ضائع نہ ہوں۔