طیارہ بردار بحری جہاز جیرالد فورڈ میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا: سینٹ کام

آگ کا کسی جنگی کارروائی سے تعلق نہیں، بحری جہاز بحیرہ احمر میں اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز جیرالد فورڈ میں جمعرات کو آگ لگ گئی۔ تاہم آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ کمانڈ نے ’’ ایکس‘‘کے ذریعے بتایا کہ جہاز میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور وہ آپریشنل ہے۔ سینٹ کام نے یہ بھی واضح کیا کہ جیرالد فورڈ میں لگنے والی آگ کا کسی جنگی کارروائی سے تعلق نہیں۔ اس نے اشارہ کیا کہ جیرالد فورڈ بحیرہ احمر میں اپنا مشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ واقعہ ایران کے خلاف جاری اسرائیلی امریکی جنگ کے بارویں دن پیش آیا ہے۔

یو ایس ایس جیرالد آر فورڈ دنیا کا سب سے بڑا جنگی جہاز ہےجس کی لمبائی تقریباً 333 میٹر، چوڑائی 40.8 میٹر اور فلائٹ ڈیک کی چوڑائی 78 میٹر ہے۔ مکمل لوڈ کے ساتھ اس کا وزن تقریباً ایک لاکھ ٹن ہے۔ امریکی بحریہ نے اسے ٹیکنالوجی کا شاہکار قرار دیا اور بتایا کہ اس کی تعمیر میں 12 سال کی منصوبہ بندی اور محنت لگی ہے۔ اسے 2009 میں بنانا شروع کیا گیا اور پھر 2017 میں امریکی بحریہ کے حوالے کیا گیا۔

امریکہ کی پہلی بڑی سرمایہ کاری

یہ بحری جہاز امریکی بحریہ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا جہاز ہے اور 1960 کی دہائی کے بعد طیارہ بردار جہازوں کے ڈیزائن میں امریکہ کی پہلی بڑی سرمایہ کاری ہے۔ واشنگٹن نے 2005 میں طیارہ بردار جہازوں کی نئی نسل تیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ پرانے بحری جہازوں کی جگہ لی جا سکے۔ بی بی سی کے مطابق اس طیارہ بردار بحری جہاز میں طیاروں کے برقی مقناطیسی لانچ سسٹم اور جدید ترین لفٹ سمیت 23 نئی ٹیکنالوجیز شامل کی گئی ہیں اور پچھلی کلاس کے مقابلے میں اس کے عملے میں 20 فیصد کمی کی گئی ہے جو نظام کی اعلیٰ کارکردگی کی علامت ہے۔ یو ایس ایس جیرالد فورڈ توانائی کے لیے ایٹمی ری ایکٹرز پر انحصار کرتا ہے۔ یہ امریکی بحریہ میں کوئی نئی بات نہیں لیکن اس کے ری ایکٹرز سابقہ جہازوں کے مقابلے میں زیادہ طاقتور اور طویل عمر والے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں