سعودی عرب کان کنی میں سرمایہ کاری کے لیے دسواں سب سے پرکشش ملک بن گیا

نئی عالمی کامیابی، سعودی عرب 2025 کے لیے اس بین الاقوامی فہرست میں شامل واحد ایشیائی ملک ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب مسلسل دوسرے سال عالمی مائننگ انویسٹمنٹ انڈیکس میں اپنی تاریخی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ کینیڈین فریزر انسٹی ٹیوٹ کے 2025 کے سالانہ سروے کے مطابق "مائننگ انویسٹمنٹ اٹریکشن" انڈیکس میں دنیا کے سرفہرست 10 ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔ یہ انسٹی ٹیوٹ کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے ماحول کی جانچ کے لیے دنیا کے اہم ترین حوالہ جات میں شمار ہوتا ہے۔ اس انڈیکس پر بڑے مالیاتی ادارے اور بین الاقوامی کمپنیاں اپنے سرمایہ کاری کے فیصلوں کے لیے انحصار کرتی ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سعودی عرب نے صرف ایک سال میں 13 درجے کی چھلانگ لگائی اور 14.3 فیصد کی بہتری دکھائی جس سے وہ 2025 کی اس فہرست میں واحد ایشیائی ملک گیا اور دسویں نمبر پر پہنچ گیا۔ یہ ایک غیر معمولی تبدیلی ہے جو 2013 میں 104 ویں نمبر سے شروع ہوئی پھر 2024 میں 23 ویں اور اب دنیا کی پرکشش ترین منزلوں میں سے ایک بن گئی ہے۔

یہ عالمی اعزاز 2025 کے سروے کے ذیلی اشاریوں میں متوازن ترقی پر مبنی ہے جہاں مملکت نے پالیسیوں اور قانون سازی کے انڈیکس میں گزشتہ سال کی 20 ویں پوزیشن کے مقابلے میں 94.99 پوائنٹس کے ساتھ عالمی سطح پر چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ ’’ جیولوجیکل صلاحیتوں ‘‘ کے انڈیکس میں وہ 24 ویں سے 16 ویں نمبر پر آگئی۔ یہ عالمی سطح پر ثابت کرتا ہے کہ سعودی عرب کی سرمایہ کاری کی مسابقت دو مضبوط ستونوں پر مبنی ہے۔

امید افزا جیولوجیکل وسائل

نائب وزیر برائے صنعت و معدنی وسائل انجینئر خالد المدیفر نے کہا کہ دنیا کے سرفہرست 10 ممالک میں شامل ہونا کان کنی کے شعبے میں ’’ ویژن 2030 ‘‘ کی اصلاحات کی گہرائی اور سرمایہ کاری کے ماحول کی پختگی کا عکاس ہے۔ سیاسی معیارات کے لحاظ سے سعودی عرب نے تین معیارات میں عالمی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کر کے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے جن میں کان کنی کے نظام کے قواعد و ضوابط کی وضاحت شامل ہے۔

ایگزیکٹو ایڈمنسٹریشن کی کارکردگی میں 558 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی وجہ نئے مائننگ انویسٹمنٹ سسٹم کا نفاذ اور پلیٹ فارم "تعدین" کے ذریعے طریقہ کار کو خودکار بنانا ہے۔ سعودی عرب "ریگولیٹری مستقل مزاجی" کے انڈیکس میں بھی عالمی سطح پر پہلے نمبر پر آیا ہےجو حکومتی شعبوں کے درمیان ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔ اس کے علاوہ ’’ مائننگ ٹیکس سسٹم ‘‘ میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کی جس سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے۔

سعودی عرب نے "ماحولیاتی قانون سازی کے استحکام اور وضاحت" میں عالمی سطح پر دوسری پوزیشن اور "زمین کے مطالبات اور مقامی کمیونٹیز کی ترقی" کے معیار میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ بنیادی ڈھانچے کے معیار، بشمول سڑکوں تک رسائی، بجلی، مواصلات اور پانی کی دستیابی میں بھی بڑی ترقی ہوئی ہے جو گزشتہ برسوں کے دوران حکومتی تعاون اور جنوری میں شروع کی گئی "مائننگ انفراسٹرکچر اینبلنگ انیشیٹو" کا نتیجہ ہے۔

ان پوزیشنوں کے ساتھ ساتھ دیگر اہم معیارات میں 100 فیصد سے زیادہ کی ترقی دیکھی گئی ۔ عدالتی نظام کے معیار میں 211 فیصد اور جیولوجیکل ڈیٹا بیس کے معیار میں 203 فیصد اضافہ ہوا، جس سے سرمایہ کاری کا ماحول مزید شفاف اور قابل اعتماد ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں