کال آف ڈیوٹی سے میمز تک: وائٹ ہاؤس کی ویڈیوز تنازعہ کا سبب بن گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد وائٹ ہاؤس نے کئی ویڈیوز جاری کیں، جن میں حقیقی میدان جنگ کے مناظر کو ویڈیو گیمز اور اینیمیشن کے مناظر کے ساتھ ملا کر دلچسپ سینمائی انداز میں پیش کیا گیا، تاکہ امریکی فوج کی کامیابیوں کو اجاگر کیا جا سکے۔یہ ویڈیوز خاص طور پر ایکس (سابق ٹویٹر) اور ٹک ٹاک پر لاکھوں بار دیکھی جا چکی ہیں۔

ایک مشہور ویڈیو میں سب سے پہلے کال آف ڈیوٹی (Call of Duty) نامی مشہور شوٹنگ گیم کا منظر دکھایا گیا، جو انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز ہے۔

ویڈیو میں جنگی طیارے کی کیریئر سے اڑان، آسمان میں میزائلوں کا پروان چڑھنا دکھایا گیا اور ساتھ میں رَیپ گانے Bonfire کے ساتھ گہرے انداز میں آواز آتی ہے:''ہم اس لڑائی میں جیت رہے ہیں ''۔اس ویڈیو کو اب تک 58 ملین سے زیادہ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ویڈیوز میں مشہور فلموں کے مناظر

دوسری ویڈیوز میں سپر مین "بریف ہارٹ" (دلیر دل) "ٹاپ گن"، "آئرن مین" (مردِ فولادی) اور "گلیڈی ایٹر" (مجاہد) کے مناظر دکھائے گئے، جن میں فوجی سازوسامان کے تباہ ہوتے مناظر بھی شامل تھے۔

گزشتہ تنازعات میں عام طور پر گرافکس اور سرکاری بیانات استعمال ہوتے تھے، لیکن اس بار وائٹ ہاؤس نے ایک ویڈیو گیم طرز کی مہم چلائی ہے، جو امریکی فوج کی ٹیکنالوجیکل طاقت اور مہارت کو ہالی وڈ فلموں کے انداز میں پیش کرتی ہے۔

اس حوالے سے نکولاس کول جو یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے ایننبرگ اسکول آف کمیونیکیشن اینڈ جرنلزم میں پروفیسر ہیں، نے کہا:انتظامیہ کا جنگی پیغامات کو میمز اور ویڈیو گیمز میں تبدیل کرنا، ماضی کے روایتی اور محتاط طریقوں کے مقابلے میں ایک بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے، جو پہلے جنگوں کی تشہیر کے لیے استعمال ہوتے تھے۔یہ بات وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کی۔

وائٹ ہاؤس کی ویڈیوز پر تنقید اور دفاع

ایک اہلکار نے کہا کہ جو لوگ ان ویڈیوز کو غیر حساس یا جنگ کو کھیل قرار دے کر تنقید کرتے ہیں، وہ دراصل امریکہ کی مشن کی ناکامی کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ٹک ٹاک ٹیم جو وائٹ ہاؤس کا اکاؤنٹ چلاتی ہے، تقریباً 15 نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی عمر بیس سے تیس سال کے درمیان ہے۔

کچھ ناقدین نے ان ویڈیوز کو ایسی جنگ کا گھٹیا موازنہ جس میں امریکی فوجی اور ایرانی شہری ہلاک ہوئے، ویڈیو گیمز کے انداز میںقرار دیا، جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا۔

اسی طرح کچھ سابقہ ریپبلکن اہلکار اور کمیونیکیشن کے ماہرین نے کہا کہ یہ ویڈیوز امریکی فوجی طاقت کو دکھانے کی ایک نامناسب اور خودپسند کوشش ہیں۔

20 جنوری 2025 سے وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد سوشل میڈیا پر پوسٹنگ کے انداز اور طریقہ کار میں آہستہ آہستہ تبدیلی آئی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ ڈیجیٹل اکاؤنٹس نوجوان ٹیم چلا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں