واشنگٹن کا اتحادیوں سے پاسداران اور حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دینے کا مطالبہ
مارکو روبیو نے امریکی سفارت کاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ یہ پیغام اپنے ہم منصبوں تک "مناسب ترین اعلیٰ سطح" پر پہنچائیں
روئٹرز نیوز ایجنسی کے ذریعے سامنے آنے والے امریکی وزارتِ خارجہ کے ایک اندرونی مراسلے (ٹیلی گرام) سے انکشاف ہوا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پیر کے روز بیرونِ ملک مقیم امریکی سفارت کاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور لبنانی گروپ حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دینے کے لیے قائل کریں۔ اس اقدام کی وجہ حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرات بتائی گئی ہے۔
یہ ہدایات 16 مارچ کی تاریخ کے ساتھ جاری کی گئی ہیں جن پر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے دستخط موجود ہیں۔ یہ دنیا بھر میں تمام امریکی سفارتی مشنوں اور قونصل خانوں کو بھیجی گئی ہیں۔
مراسلے میں امریکی سفارت کاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ یہ پیغام اپنے ہم منصبوں تک "مناسب ترین اعلیٰ سطح" پر 20 مارچ تک پہنچا دیں۔ مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں تنظیموں کو کالعدم قرار دینے کی کوششیں اسرائیلی ہم منصبوں کے ساتھ ہم آہنگی سے ہونی چاہئیں۔
ٹیلی گرام میں شامل ایک اہم نکتے میں کہا گیا ہے "ایران اور اس کے شراکت داروں و ایجنٹوں کے حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیشِ نظر، تمام حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ایران اور اس کی اتحادی دہشت گرد تنظیموں کی ہمارے ممالک اور شہریوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت کو کم کرنے کے لیے فوری کارروائی کریں۔"
اس مراسلے میں ان بڑھتے ہوئے خطرات کی تفصیلات تو نہیں دی گئیں، لیکن تہران کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے پڑوسیوں پر حملوں کی مثالیں دیتے ہوئے مشترکہ کارروائی پر زور دیا گیا ہے۔
ٹیلی گرام میں مزید کہا گیا "ہمارا اندازہ یہ ہے کہ ایرانی حکومت انفرادی اقدامات کے مقابلے میں اجتماعی اقدامات کے حوالے سے زیادہ حساس ہے اور مشترکہ دباؤ کے ذریعے حکومت کو اپنا رویہ تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کا امکان انفرادی اقدامات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔"
مراسلے کے مطابق اس قسم کا تعین ایران پر دباؤ بڑھانے اور دنیا بھر میں "دہشت گردانہ سرگرمیوں کی سرپرستی" کرنے کی اس کی صلاحیت کو محدود کرنے کا باعث بنے گا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا "صدر ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں،" انہوں نے مزید کہا کہ "ایرانی پاسدارانِ انقلاب، حزب اللہ اور ایران کے حمایت یافتہ دیگر ایجنٹ حکومتوں کو غیر مستحکم اور علاقائی امن کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔"
واضح رہے کہ امریکہ اور بعض دیگر ممالک پہلے ہی پاسدارانِ انقلاب اور حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے چکے ہیں۔