میکسیکو کی صدر کا ورلڈ کپ میں ایرانی میچوں کی میزبانی پر مؤقف سامنے آ گیا
مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث ایران کے گروپ میچز امریکہ سے میکسیکو منتقل کرنے کی تیاریاں
ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج ورلڈ کپ 2026ء کے گروپ مرحلے کے میچز مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث امریکہ کے بجائے میکسیکو منتقل کرنے کے لیے عالمی فٹ بال فیڈریشن (فیفا) سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ میکسیکو میں ایرانی سفارت خانے نے پیر کے روز اس حوالے سے تفصیلات جاری کیں۔
میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبوم سے جب منگل کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران پوچھا گیا کہ کیا ایران اپنے میچز منتقل کرنے کے لیے ’فیفا‘ سے بات چیت کر رہا ہے اور کیا ان کا ملک اس کے لیے تیار ہے، تو انہوں نے جواب میں "جی ہاں" کہا۔
اس سے قبل ’اے ایف پی‘ کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر فیفا نے اس طرح کی کسی بھی تجویز پر بات چیت کی تصدیق کرنے سے گریز کیا تھا۔
گذشتہ ماہ کے آخر میں جنگ چھڑنے کے بعد سے آئندہ موسم گرما میں امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں ہونے والے ورلڈ کپ میں ایران کی شرکت مشکوک ہو گئی ہے۔
سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کیے گئے بیان کے مطابق مہدی تاج نے کہا کہ چونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ ایرانی ٹیم کی سکیورٹی کی ضمانت نہیں دے سکتے، اس لیے ہم یقینی طور پر امریکہ نہیں جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم فیفا کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ ورلڈ کپ میں ایران کے میچز میکسیکو میں منعقد کیے جائیں۔
اگرچہ فیفا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ ایرانی فیڈریشن کے ساتھ رابطے میں ہے، تاہم اس نے یہ اشارہ نہیں دیا کہ میچوں کے شیڈول میں تبدیلی زیر غور ہے۔
’فیفا‘ کے ترجمان نے فرانس برس کو بتایا کہ فیفا ورلڈ کپ 2026ء کی منصوبہ بندی پر بات چیت کے لیے ایران سمیت تمام شریک رکن فیڈریشنز کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیفا سنہ 2025ء دسمبر کی 6 تاریخ کو اعلان کردہ میچ شیڈول کے مطابق تمام ٹیموں کی شرکت کا منتظر ہے۔
شیڈول کے مطابق ایران کو گروپ مرحلے میں لاس اینجلس میں نیوزی لینڈ اور بیلجیئم کا سامنا کرنا ہے، جبکہ اس کا مقابلہ مصر سے سیاٹل میں ہونا ہے۔ ٹورنامنٹ کے دوران ایرانی ٹیم کا ہیڈ کوارٹر ریاست ایریزونا کے شہر ٹوسان میں ہونا طے ہے۔
اگر ایران ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کرتا تو ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کون سا ملک اس کی جگہ لے گا۔
میکسیکو میں ایران کے سفیر ابوالفضل پسندیدہ نے پیر کے روز ورلڈ کپ سے قبل ایرانی ٹیم کے وفد کو ویزوں کے اجراء اور لاجسٹک مدد کی فراہمی میں امریکی حکومت کے تعاون کے فقدان کی مذمت کی۔ یہ بات سفارت خانے کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک بیان میں کہی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنی طرف سے فیفا کو تجویز دی ہے کہ ایران کے میچز امریکہ سے میکسیکو منتقل کیے جائیں۔
اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ٹورنامنٹ کے میزبان شراکت داروں کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ امریکہ میں بھی ایرانی ٹیم کا خیرمقدم ہے، تاہم انہوں نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایرانی کھلاڑی امریکی سرزمین پر محفوظ نہیں ہوں گے۔ انہوں نے ان خطرات کی نوعیت کی وضاحت نہیں کی تھی۔
دوسری جانب فیفا کے صدر جانی انفانٹینو نے اس سے قبل تصدیق کی تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے ایرانی ٹیم کے استقبال کا وعدہ کیا ہے۔