غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ کو دوبارہ کھول دیا گیا
اسرائیل نے 8 مریضوں اور ان کے ہمرا 17 تیمارداروں کے سفر کی منظوری دے دی ہے
تین ہفتوں سے زائد کی بندش کے بعد مصر کے ساتھ واقع غزہ کی پٹی کی رفح کراسنگ کو آج جمعرات کے روز دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ یہ بات مصری حکام کے قریبی سمجھے جانے والے 'القاہرہ نیوز' چینل نے بتائی۔
چینل کے مطابق کراسنگ کو "دونوں اطراف" سے دوبارہ کھولا گیا ہے اور ایسی فوٹیج بھی دکھائی ہے جس میں متعدد فلسطینی مصری جانب سے غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو مصر میں زیرِ علاج تھے۔
اسی طرح فوٹج میں ایمبولینسیں بھی دکھائی گئی ہیں جو غزہ کی پٹی سے آنے والے فلسطینی مریضوں کے استقبال کی منتظر ہیں۔
اس سے قبل غزہ کی پٹی میں کراسنگ اتھارٹی نے اعلان کیا تھا کہ مصر اور غزہ کے درمیان رفح کی سرحدی کراسنگ جمعرات کی صبح جزوی طور پر دوبارہ کھول دی جائے گی۔ اتھارٹی نے وضاحت کی کہ اسرائیلی جانب نے عالمی ادارہ صحت کے ذریعے وزارت صحت کو مطلع کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی سے 8 مریضوں کو 17 تیمارداروں کے ہمراہ علاج کے لیے مصر جانے کی اجازت دینے پر راضی ہے۔
اسرائیل نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ رفح کراسنگ کو بدھ کے روز اسی طریقہ کار کے تحت کھول دے گا جو اس کی بندش سے پہلے رائج تھا، لیکن بعد میں اس بہانے سے پیچھے ہٹ گیا کہ کرم ابو سالم کراسنگ سے غزہ بھیجے جانے والے سامان کے ساتھ ممنوعہ اشیاء اسمگل کی گئی تھیں۔
یاد رہے کہ اسرائیلی حکام نے 28 فروری کو امریکہ کے ساتھ مل کر ایران پر اپنے حملے کے آغاز کے ساتھ ہی اس کراسنگ کو بند کر دیا تھا۔