فطرت کے استعمال میں انسانی کمال کی عکاسی کرنے والے الحجر کے آثار قدیمہ

سعودی علاقے العلا میں باریک بینی سے تراشی گئی چٹانی عمارتیں بلند پایہ ہندسی تخلیق کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب میں صوبہ العلا میں واقع الحجر کا آثارِ قدیمہ کا مقام ان ممتاز ترین تعمیراتی شواهد میں سے ایک ہے جو فطرت کے استعمال میں انسانی عبقریت کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس کی باریک بینی سے تراشی گئی چٹانی عمارتیں اپنے بلند پایہ ہندسی تخلیق کی وجہ سے سیاحوں اور ورثے کے شائقین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ یہ چٹانوں سے تراشی کی گئی عمارتیں نبطی تہذیب کی نمایاں خصوصیات رکھتی تھیں۔

یہ مقام ریتلے پہاڑوں میں براہ راست تیار کی گئی منفرد انجینئرنگ کی وجہ سے ممتاز ہے جو مستطیل شکل کے بڑے مقبروں کی پیشانیوں میں نظر آتی ہے۔ ان کے اوپر نفیس آرائشی عناصر موجود ہیں جن میں سیڑھیوں والے نبطی تاج، ہندسی مثلث، پھولوں کے نقش و نگار اور تجریدی اشکال شامل ہیں جو نبطیوں کے متنوع فنی اسلوب کو ظاہر کرتی ہیں۔

141 مقبرے تعمیراتی تخلیق کا ریکارڈ

الحجر کے مقام پر تقریباً 141 چٹانی مقبرے موجود ہیں جن میں سے 93 مقبروں کی پیشانیاں باریک ہندسی نقش و نگار سے آراستہ ہیں۔ یہ پہلی صدی قبل مسیح سے لے کر پہلی صدی عیسوی تک کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ چٹانوں کو تراشنے اور جنازہ گاہوں کی ڈیزائننگ میں نبطی تہذیب کے حاصل کردہ فنی اور تعمیراتی مقام کو اجاگر کرتے ہیں۔ مقبروں کی پیشانیوں پر چٹانی کتبے موجود ہیں جو وہاں دفن شخصیات کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔ کچھ تحریریں ان مقبروں کی نشاندہی کرتی ہیں جو مختلف سماجی حیثیت کے حامل افراد جیسے قائدین، معالجین اور فوجی شخصیات کے لیے مخصوص تھے۔ اسی طرح الحجر کے پہاڑوں میں مسلسل تاریخی ادوار سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں ایسے کتبے بکھرے ہوئے ہیں جو اس خطے میں متعدد تہذیبوں کے گزرنے اور قیام کی گواہی دیتے ہیں۔

متعدد تہذیبی علامات

الحجر کے مقام پر موجود ہندسی اور علامتی نقش و نگار ایک بھرپور تہذیبی ملاپ کی عکاسی کر رہے ہیں ۔ بعض مقبروں کے داخلی راستوں پر سانپوں جیسی علامتیں تحفظ کی علامت کے طور پر نظر آتی ہیں۔ یہاں موجود کمل کا پھول قدیم مصری تہذیب میں زندگی اور دوبارہ جی اٹھنے کے تصورات سے وابستہ ہے۔ ان کتبوں میں عقاب، شیر اور نبطی تاج جیسے دیگر آرائشی عناصر بھی شامل ہیں جو مشرقِ قریب اور ہیلنسٹک دنیا کی تہذیبوں سے نبطی فن کے متاثر ہونے کی علامت ہیں۔

خطے کا لسانی تنوع

اس مقام کی اہمیت صرف تعمیراتی فنون تک محدود نہیں ہے بلکہ یہاں قدیم زبانوں جیسے لحیانی، ثمودی اور نبطی میں لکھے گئے کتبے اور تحریریں بھی موجود ہیں جو مختلف ادوار میں جزیرہ نما عرب کے شمال میں زبان اور تحریر کے ارتقاء کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔

یونسکو فہرست میں شامل پہلا سعودی مقام

الحجر یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہونے والا پہلا سعودی مقام ہے کیونکہ یہ غیر معمولی عالمی انسانی قدر کا حامل ہے۔ یہ نبطی تہذیب اور چٹانی فنِ تعمیر میں ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا ایک منفرد گواہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ قدیم تجارتی راستوں پر ایک اہم پڑاؤ بھی رہا ہے۔ آج یہ مقام دنیا بھر سے سیاحوں اور محققین کو اپنی طرف راغب کر رہا ہے کیونکہ یہ ایک کھلے عجائب گھر کی مانند ہے جو العلا کی چٹانوں میں تراشے گئے ایک منفرد تعمیراتی منظر میں فن، انجینئرنگ اور تاریخ کے ملاپ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ مقام مملکت کے پاس موجود تہذیبی ورثے کی گہرائی کو بھی عیاں کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں