یروشلم (القدس) میں قدیم قصبے کی دیواروں کے قریب جمعہ کے روز ایرانی میزائل کے ٹکڑے گرنے کے مقام سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا، یہ مناظر اسرائیلی ٹیلی ویژن نے نشر کیے ہیں۔
اس سے قبل نامہ نگاروں نے ایرانی میزائلوں کے الرٹ کے بعد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی تھیں۔ اسرائیلی میڈیا نے سڑک پر بننے والے ایک گڑھے کی فوٹیج بھی دکھائی ہے جو تاریخی قدیم قصبے کے یہودی اور آرمینیائی محلوں کے قریب معلوم ہوتا ہے۔
القيادة المركزية الأميركية: نضرب أهدافا عسكرية في العمق الإيراني pic.twitter.com/TrkK2WhaIV
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) March 20, 2026
’اے ایف پی‘کے مطابق اسرائیلی پولیس نے وضاحت کی ہے کہ وہ القدس کے علاقے میں گرنے والے ہتھیاروں، گولہ بارود یا میزائلوں کو روکنے کے نتیجے میں گرنے والے ٹکڑوں کے مقامات کا تعین کرنے کے لیے تلاشی کی کارروائیاں کر رہی ہے۔
ایران میں جنگ کا سلسلہ جاری ہے جہاں اسرائیلی فضائیہ نے جمعہ کو مشرقی تہران پر حملوں کی لہر شروع کی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ بحیرہ کیسپین کے ساحل پر واقع نور کے علاقے میں ایرانی اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے، جبکہ ایرانی میڈیا نے یزد، برازجان، ہرمزگان اور اہواز میں دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔ دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کی گہرائی میں فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔
إعلام إيراني: قصف جوي على معسكر تابع للحرس الثوري في بهارستان بأصفهان pic.twitter.com/bByomNsfYE
— العربية (@AlArabiya) March 20, 2026
ایرانی میڈیا کے مطابق نئے حملوں میں بندر عباس ایئر بیس، مشرقی تہران میں سمنان کے مقام پر بسیج کی ایک بیس اور کوہستان میں میزائل لانچنگ پیڈ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تبریز میں بھی زور دار دھماکے سنے گئے۔ اصفہان کے علاقے بہارستان میں پاسداران انقلاب کے ایک کیمپ پر فضائی بمباری کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ گذشتہ روز تبریز پر ہونے والی غارت گری میں 13 بسیج ارکان کی ہلاکت کا ذکر کیا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے ایران سے اسرائیل کی طرف داغے گئے میزائلوں کی ایک نئی لہر کی نشاندہی کی ہے اور بتایا ہے کہ فضائی دفاعی نظام ایرانی خطرات کا مقابلہ کر رہا ہے۔ ایرانی فوج کے پریس آفس نے اعلان کیا ہے کہ تہران نے بن گوریون ایئرپورٹ پر طیاروں میں ایندھن بھرنے والے اسٹیشنوں اور القدس میں اسرائیلی وزارت برائے قومی سکیورٹی پر ڈرون حملے کیے ہیں۔
ایرانی سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن نے ایک بیان نشر کیا جس میں کہا گیا کہ آج صبح بن گوریون ایئرپورٹ پر اسرائیلی حکومت کے تزویراتی طیاروں، مقبوضہ القدس میں دشمن کی وزارت برائے قومی سکیورٹی اور تل ابیب میں چینل 13 کے ٹھکانوں پر ڈرونز سے وسیع پیمانے پر حملہ کیا گیا۔ اس سے قبل پاسداران انقلاب نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جوابی فوجی کارروائی کی 66 ویں لہر کے طور پر القدس اور حیفہ میں اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران اور کئی دیگر شہروں کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کا سامنا ہے۔ صوبہ خوزستان کے شہر اہواز میں آج صبح زور دار دھماکے ہوئے جبکہ ایک ایرانی سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ صوبہ لرستان پر اب تک 100 سے زائد فضائی حملے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان حملوں میں لرستان کے 12 شہروں میں 64 مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں 80 فوجی اور 64 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
دوسری طرف اسرائیلی فوج نے ایران سے داغے گئے میزائلوں کا سراغ لگا کر ان کے خلاف کارروائی کی ہے جبکہ تل ابیب اور وسطی اسرائیل میں سائرن بج اٹھے۔ العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے ایرانی میزائلوں کو فضا میں روکنے کے نتیجے میں القدس کے آسمان پر دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک میزائل کو ناکارہ بنا دیا گیا جبکہ دوسرا وسطی اسرائیل کے کھلے علاقے میں گرا۔ وسطی اسرائیل کے علاقے رحوفوت میں ایرانی میزائل کے ٹکڑے گرنے سے اسرائیلی ایمبولینس سروس کے مطابق 9 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے رات گئے اسرائیل کی طرف ایرانی میزائل فائر کیے جانے کے بعد تہران پر نئے حملوں کا اعلان کیا ہے۔ فوج کے بیان کے مطابق تہران کے گرد و نواح میں ایرانی نظام کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا نے تہران اور اراک پر حملوں کی تصدیق کی ہے۔ اسرائیلی فوجی بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی میزائل صلاحیتوں اور فضائی دفاع کو کمزور کرنا ہے تاکہ ایرانی دفاعی نظام کو مفلوج کر کے بیلسٹک خطرات کو روکا جا سکے۔
تہران کے جنوب مشرق میں واقع بارشین کے علاقے میں بھی دھماکوں کی اطلاع ملی ہے جو اپنی عسکری اہمیت کی وجہ سے مشہور ہے اور وہاں میزائل سازی اور دھماکہ خیز مواد کی تیاری کے مراکز قائم ہیں۔ یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28فروری سنہ 2026ء ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ حملہ ایرانی جوہری اور میزائل خطرات کے پیش نظر کیا گیا جس میں رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای سمیت ایران کے کئی پہلی صف کے قائدین ہلاک ہو چکے ہیں۔ جواب میں پاسداران انقلاب نے اسرائیل اور پڑوسی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
-
’ دشمن کو شکست ہو گئی ہے‘:نوروز پر مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام
نئے ایرانی رہبر کا پڑوسی ممالک سے تعلقات مستحکم کرنے کا عزم
مشرق وسطی -
ایران کے خلاف معرکہ عسکری طور پر جیت چکے، بزدل نیٹو اتحادیوں نے دھوکا دیا: ٹرمپ
ایران میں قیادت زندہ نہیں بچی جس سے بات چیت کی جائے:امریکی صدر
بين الاقوامى -
ایران کے لیے جاسوسی کے شبے میں اسرائیلی فوجی گرفتار
فوجی پر ایران کو حساس معلومات فراہم کرنے کا الزام
مشرق وسطی