معروف برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے پیر کو خبر دی ہے کہ پاکستان خود کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ختم کرانے کے لیے مرکزی ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
اخبار نے اس پیش رفت سے باخبر دو افراد کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی۔
اس خبر کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں اور ٹرمپ کی ’ٹروتھ سوشل‘ پر کی جانے والی پوسٹ آپس میں جڑی ہوئی ہیں یا نہیں۔ وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے مذاکرات پر مزید تفصیلات دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ حساس سفارتی بات چیت ہے اور امریکہ میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا۔‘
ترکی، جو جنگ سے پہلے بھی ثالثی کی کوششوں میں شامل تھا، وہ بھی ایرانی حکام اور ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف سے رابطے میں ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پیر کو اپنے ترک ہم منصب حقان فیدان سے بات چیت کی، جبکہ مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے بھی اتوار کو اپنے ایرانی اور پاکستانی ہم منصبوں سمیت وٹکوف اور قطری وزیر خارجہ سے رابطہ کیا۔
ادھر پیر کی رات امریکی اخبار ایکسیوس نے بھی مذاکرات میں پاکستان کے کردار کا ذکر کیا ہے۔ ایکسیوس کے مطابق: ’ایک اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ ثالثی کرنے والے ممالک رواں ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ایک اجلاس بلانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں تہران کی نمائندگی قالیباف اور دیگر حکام، جبکہ امریکہ کی نمائندگی وٹکوف، کشنر اور ممکنہ طور پر نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔‘
ایکسویس نے امریکی ذرائع کے حوالے سے کہا کہ گذشتہ دو دنوں کے دوران ترکی، مصر اور پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات پہنچانے کا کام کر رہے ہیں۔
1/ Iranian people demand complete and remorseful punishment of the aggressors.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) March 23, 2026
All Irainan officials stand firmly behind their supreme leader and people until this goal is achieved.
تاہم دوسری جانب ایرانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے لکھا، ’ہماری قوم جارحیت پسندوں کے لیے مکمل اور عبرت ناک سزا کا مطالبہ کرتی ہے۔ تمام حکام اس مقصد کے حصول تک اپنے قائد اور عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔ یہ جھوٹی خبریں مالیاتی اور تیل کی منڈیوں میں ہیرا پھیری کرنے اور اس دلدل سے بچنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں جس میں امریکہ اور اسرائیل پھنس چکے ہیں۔‘