امریکی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے ایران کے اوپر امریکی ’’ ایف ۔ 15 ‘‘ لڑاکا طیارہ گرائے جانے کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے ان دعووں کو غلط قرار دے دیا ہے۔ سینٹ کام نے واضح کیا کہ امریکی افواج نے آپریشن "ایپک فیوری" کے تحت 8 ہزار سے زیادہ جنگی پروازیں کیں اور ایرانی فائرنگ سے کوئی بھی امریکی لڑاکا طیارہ نہیں گرایا گیا۔ یہ تردید ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوشل میڈیا پر امریکی فوجی نقصانات کے حوالے سے افواہیں گرم ہیں۔ واشنگٹن اپنے فضائی آپریشنز کے جاری رہنے اور طیاروں کو کوئی براہ راست نقصان نہ پہنچنے کا کہ رہا ہے۔
ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ملک کے جنوبی حصے میں ایک ’’ ایف ۔ 15 ‘‘ طیارہ مار گرایا ہے۔ چند روز قبل ’’ ایف ۔ 35 ‘‘ اور ’’ ایف ۔ 16 ‘‘ طیاروں کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا گیا تھا۔
🚫 معلومة مُضلِلة: تزعم الشائعات أن النظام الإيراني أسقط مؤخرا طائرة مقاتلة أمريكية من طراز F-15 فوق إيران.
— U.S. Central Command - Arabic (@CENTCOMArabic) March 22, 2026
✅ معلومة موثقة: قامت القوات الأمريكية بأكثر من 8000 طلعة قتالية خلال عملية الغضب الملحمي. لم تسقط إيران أي طائرة مقاتلة أمريكية. pic.twitter.com/4vMsycfyYW
ایران کا اعلان
ایرانی فوج نے اتوار کو بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے ملک کے جنوب میں ایک ’’ ایف ۔ 15 ‘‘ لڑاکا طیارہ گرانے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ وہ طیارہ خلیج عرب میں جزیرہ ہرمز کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ ایرانی ٹیلی ویژن نے مشترکہ فضائی دفاعی ہیڈ کوارٹر کے بیان کے حوالے سے نقل کیا کہ دشمن کا ایک ’’ ایف ۔ 15 ‘‘ لڑاکا طیارے کو چند گھنٹے قبل ملک کے جنوب میں نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ طیارے کو فوجی فضائی دفاعی فورسز نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سے گرایا۔ یہ طیارہ جزیرہ ہرمز کے قریب تباہ ہوا اور اس کے انجام کے بارے میں تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں نیوز ایجنسی "تسنیم" نے ’’ ایکس‘‘ پر ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ اسی واقعے کی ہے۔